.

مصر کو مذہبی ریاست بنانے اور خانہ جنگی سے بچا لیا گیا:السیسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو ایک سازش کے تحت مذہبی ریاست بنانے اور ملک میں تباہ کن خانہ جنگی شروع کرنے کی کوشش کی گئی تھی مگر اس سازش کو کچل دیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صدر السیسی نے ان خیالات کا اظہار فرانسیسی صدر عمانویل میکروں سے قاہرہ میں ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ آج وہ اس مقام پر مصری قوم کے فیصلے کے مطابق کھڑے ہیں۔ اگر عوام ان کے ساتھ نہ ہوتے تو اپنا مشن جاری نہ رکھ سکتے۔ صدر السیسی نے کہا کہ حالیہ چند برسوں کے دوران ان کے ملک نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے انکشاف کیا کہ بدترین معاشی حالات میں بھی انہوں نے اڑھائی لاکھ مصری خاندانوں کو باوقار زندگی گذارنے کا موقع فراہم کیا۔ ایک سال کے دوران 10 ہزار شہریوں کا علاج کیا۔ کیا اس کے بعد بھی مصر پر انسانی حقوق کی پامالیوں کا الزام عاید جائے گا؟۔

انہوں نے کہا کہ مصر یورپ یا امریکا نہیں بلکہ ہمارا ملک اپنے مخصوص طبیعی حالات کی وجہ سے دنیا سے ممتاز ہے۔
قبل ازیں دونوں رہ نمائوں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں باہمی تعاون کے کئی سمجھوتوں کی منظوری دی گئی۔ صدر السیسی نے کہا کہ مصر کے 10 کروڑ عوام کو آزادی اظہار رائے کا حق دیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر ایک ارب یورو کا تزویراتی شراکت کا معاہدہ طے پایا جس پر سنہ 2019ء سے 2023ء تک عمل درآمد کیا جائےگا۔