امریکا: قطر پر سائبر جاسوسی کا الزام، نیا عدالتی دعوی دائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا میں الیکٹرونک جاسوسی کا اسکینڈل ایک بار پھر زیر بحث آ گیا ہے۔ اس سازش کی فنڈنگ کے حوالے سے قطر کو مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے۔

امریکا کی حکمراں جماعت ری پبلکن پارٹی کے مالی امور کے ایک ذمے دار ایلیٹ برائیڈی نے 24 جنوری کو نیویارک میں ایک بار پھر عدالت میں دعوی دائر کیا ہے۔ یہ نیا دعوی 82 صفحات پر مشتمل ہے جس میں برائیڈی نے امریکا میں سائبر جاسوسی کے اسکینڈل کا ذمے دوحہ کو ٹھہرایا ہے۔ امریکا اور مشرق وسطی میں 1400 سے زیادہ شخصیات جاسوسی کی لپیٹ میں آئیں۔

برائیڈی نے مراکش سے تعلق رکھنے والے سفارت کار جمال بن عمر پر الزام لگایا کہ وہ قطر کی سپورٹ سے برائیڈی کی ای میلز ہیک کرنے کے منصوبے کا ماسٹر مائنڈ ہے۔

انگریزی اخبار TPM کی ویب سائٹ پر برائیڈی کی جانب سے دائر نئے دعوے کا متن شائع کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق دوحہ نے افشا ہونے والی ای میلز کو پھیلانے کے لیے متعلقہ مہم کی فنڈنگ کی۔

عدالتی دعوے میں برائیڈی نے باور کرایا کہ امریکی عہدے داران کے ساتھ اجلاسوں میں قطر کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے بعد وہ دوحہ کے حریف اور مخاصم بن گئے۔ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ براہ راست بات چیت میں قطری دہشت گردی کے معاملے کو زیر بحث لائے۔

دعوے کے متن میں بتایا گیا ہے کہ دوحہ نے تعلقات عامہ کے ماہر گریگوری ہیوارڈ کو بھرتی کیا تاکہ ای میلز کے مواد کو درجنوں اخباری پلیٹ فارمز اور صحافیوں میں پھیلایا جا سکے۔

علاوہ ازیں ہیوارڈ کی سرگرمیوں کی فنڈنگ کے سلسلے میں قطری انویسٹمنٹ اتھارٹی کا نام نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔ ہیوارڈ کی فون کالز کے ریکارڈ میں اس حوالے سے قطری انویسٹمنٹ اتھارٹی کے لیے کام کرنے والے تعلقات عامہ کے عہدے داران کے ساتھ کالز کا انکشاف ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں