شام: قیدیوں پر تشدد اور اذیت رسانی کے لیے النصرہ فرنٹ کا نیا ہتھکنڈا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

شام کے شہر ادلب اور اس کے اطراف دیہی علاقوں میں مسلح شامی اپوزیشن کے اثر و نفوذ میں واضح حد تک کمی آنے کے بعد وہاں "ہیئۃ تحرير الشام" (سابق النصرہ فرنٹ) کا کنٹرول بڑھ گیا ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں صحافیوں اور سرکاری شعبوں میں کام کرنے والوں کے لیے علاقے کو چھوڑ دینے یا نظروں سے اوجھل ہو جانے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔

اس سلسلے میں 19 سالہ فوٹو جرنلسٹ عمّار العبدو نے ادلب کے دیہی علاقے میں جبل الزاویہ میں واقع النصرہ فرنٹ کے قید خانوں میں گزارے 100 دن کا احوال بتایا ہے۔ العبدو نے، جو ان دنوں ترکی میں مقیم ہیں ،"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ جبل الزاویہ کے علاقے میں اس روز علی الصبح النصرہ کے متعدد نقاب پوش ارکان نے اس کے گھر پر بنا اطلاع کے چھاپا مارا اور اسے گرفتار کر لیا۔ ایک نقاب پوش نے العبدو کو بتایا کہ ان کا تعلق العقاب سکیورٹی برانچ سے ہے۔ العبدو کو زدوکوب کیا گیا اور پھر ایک گاڑی کی ڈکی میں ڈال دیا گیا۔

العقاب سکیورٹی ادلب اور اس کے نواحی دیہی علاقوں کے لوگوں کے لیے سب سے زیادہ دہشت کی حامل ہے۔ اس کو بشار حکومت کی "ایئر سکیورٹی" سے تشبیہ دی جاتی ہے جو مارچ 2011 سے شروع ہونے والے عوامی احتجاج میں شامل مظاہرین کو بدترین عقوبت اور تشدد کا نشانہ بنانے کے حوالے سے جانی جاتی تھی۔

العقاب سکیورٹی کی ادلب کے نواح میں متعدد قصبوں میں شاخیں ہیں۔ اس کی مرکزی شاخ جبل الزاویہ میں ہے۔ اس کے اکثر ارکان غیر ملکی شدت پسند ہیں جب کہ ان کے ساتھ شامی جنگجو بھی شامل ہیں۔

عمار العبدو کے مطابق اسے آنکھوں پر پٹی باندھ کر قید خانے میں ڈال دیا گیا۔ اس کی کوٹھری چھوٹی اور انفرادی تھی جس کی اونچائی ، لمبائی اور چوڑائی سب 1.5 میٹر سے زیادہ نہ تھی۔ العبدو پوری طرح کھڑا بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ بڑی دشواری سے آلتی پالتی مار کر بیٹھ پاتا تھا اور اس کے بعد اس کے حرکت کرنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا تھا۔ اس کوٹھری کو النصرہ فرنٹ کے عناصر "بیت الکلب" کا نام دیتے تھے جو اذیت رسانی اور عقوبت کا نیا ذریعہ تھا۔

العبدو نے بتایا کہ وہاں عقوبت اور تشدد کے کئی ذرائع تھے۔ ان میں الماری میں ڈال کر بری طرح سے پیٹا جانا بھی شامل تھا۔ العبدو نے گواہی دی کہ بعض گرفتار شدگان کو مسلسل عقوبت اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا اور صرف کھانے کے وقت وقفہ دیا جاتا تھا۔ قیدیوں پر عائد الزامات کے لحاظ سے ان کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ ان الزامات میں مرتد ہونا، مسلمانوں کی صفوں میں پھوٹ ڈالنا، داعش تنظیم کے ساتھ ساز باز اور اسی طرح مسلح شامی اپوزیشن سے تعلق رکھنا شامل ہے۔

العبدو اور درجنوں دیگر قیدیوں نے خود کو درپیش حراست، تشدد اور اذیت رسانی کی روداد بیان کر دی۔ تاہم سیکڑوں ایسے قیدی بھی ہیں جن کو العقاب سکیورٹی برانچ کے خلاف منہ کھولنے کی جرات نہیں ہوئی۔

العقاب سکیورٹی کی برانچ میں زیر حراست رہنے والے ایک دوسرے قیدی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس کو تیس روز تک حراست میں رکھا گیا۔ گھر پر چھاپے کے بعد اسے مذکورہ برانچ کے قید خانے پہنچا دیا گیا اور پھر بہت دیر تک گالیوں اور مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا۔ نجات پانے والے اس قیدی نے بتایا کہ وہ دوران حراست تشدد کا نشانہ بنائے جانے والے بہت سے قیدیوں کی چیخ و پکار سنا کرتا تھا۔

ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ النصرہ فرنٹ نے العقاب سکیورٹی کو مال کمانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ تنظیم مسلح شامی اپوزیشن کے جنگجوؤں کو اغوا کرتی ہے اور پھر متعلقہ اپوزیشن گروپوں کی قیادت یا جنگجوؤں کے اہل خانہ کے سامنے شرط رکھتی ہے کہ وہ رہائی کے واسطے بھاری رقوم ادا کریں۔

مقامی ذرائع نے انکشاف کیا کہ بشمول العقاب سکیورٹی برانچ النصرہ فرنٹ کی خفیہ جیلوں میں تشدد کی تاب نہ لا کر بعض جنگجو اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں