شام میں مجوزہ سیف زون "ترکی کی کالونی "سے زیادہ کچھ نہیں : ایس ڈی ایف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے ایک بار پھر ترکی جانب سے مجوزہ سیف زون کے قیام کو مسترد کر دیا ہے۔

ایس ڈی ایف کونسل کی ایگزیکٹو باڈی کی سربراہ الہام احمد نے باور کرایا ہے کہ انقرہ شام کے اندر جس علاقے کو "سیف زون" قرار دے رہا ہے وہ محض "ترکی کی کالونی" سے زیادہ کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرحد پر اقوام متحدہ کی جانب سے مبصرین تعینات کیے گئے تو ہم اس امر کو قبول کر لیں گے۔

الہام کے مطابق سرحدی علاقے میں 30 کلو میٹر کے رقبے پر ترکی کا کنٹرول کُردوں کو خطرے میں ڈال دے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترکی کے کنٹرول کا مطلب ان علاقوں کو ترکی کی کالونیوں میں تبدیل کرنا ہے جہاں پر دہشت گرد جماعتوں کا غلبہ ہو۔ الہام کا اشارہ ترکی کی حمایت یافتہ شامی اپوزیشن کی جماعتوں کی جانب تھا۔

سیرین ڈیموکریٹک کونسل کے شریک چیئرمین ریاض درار نے رواں ماہ کے وسط میں العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے باور کرایا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن جس سیف زون کی بات کر رہے ہیں وہ "غیر جانب دار" ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ترکی کی افواج وہاں داخل ہوئیں تو یہ ترکی کا قبضہ شمار ہو گا۔

واشنگٹن کے دورے پر گئی الہام احمد نے منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے امریکی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا امریکا کا ثالثی ہونا کامیاب ثابت ہو گا یا نہیں۔

ایس ڈی ایف کی لیڈر کے مطابق اس وقت امریکا کی توجہ ترکی کو "ٹھنڈا" کرنے پر مرکوز ہے تا کہ ایک ایسا تصفیہ سامنے آئے جس کے ذریعے کُرد فورسز باقی رہ سکیں۔

امریکا اس وقت ایس ڈی ایف اور ترکی کی حکومت کے درمیان مفاہمت کا فارمولا تلاش کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ ترکی کی حکومت ایس ڈی ایف کو اپنے لیے "ایک سکیورٹی خطرہ" شمار کرتی ہے اور شمال مشرقی شام میں ایس ڈی ایف کے زیر کنٹرول علاقوں پر حملے کی دھمکی بھی دیتی ہے۔

معدنیات اور تیل سے مالا مال شام کا شمالی حصہ ملک کا 30 فی صد رقبہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں