صنعاء : طبی مراکز حوثی ملیشیا کے اڈوں میں تبدیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں حوثی ملیشیا نے دارالحکومت صنعاء کے زیر انتظام ڈسٹرکٹس میں متعدد طبی مراکز کو اپنے خفیہ اجلاسوں اور میٹنگز کے انعقاد کے مقامات میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس بات کا انکشاف یمنی حکومت کے زیر انتظام ویب سائٹ "الثورة ڈاٹ نیٹ" نے کیا۔

ویب سائٹ کے مطابق حوثی ملیشیا طبی مراکز پر قبضہ کر کے وہاں صرف اپنے زخمیوں کو علاج فراہم کرتی ہے۔ صنعاء میں ہیلتھ بیورو نے بتایا ہے کہ حوثیوں نے مذکورہ مراکز پر سخت حفاظتی انتظامات لاگو کر دیے ہیں اور کسی بھی عام شہری کو علاج کی غرض سے ان مراکز میں جانے سے روک دیا ہے۔

اس سے قبل باغی حوثی ملیشیا نے اپنے زیر انتظام ایک علاقے میں واقع ایک سرکاری یونیورسٹی کو ایران کی طرز پر مزار میں تبدیل کر دیا تھا۔ وہاں لبنانی ملیشیا "حزب الله" کی طرح "ہفتہِ شہداء" منایا گیا۔

حوثی ملیشیا نے صنعاء، اپنے زیر قبضہ علاقوں، سرکاری عمارتوں، جامعات اور اسکولوں کو اپنے مارے جانے والے جنجگوؤں کی تصاویر سے بھر دیا ہے۔ ان میں بچوں اور کم عمر لڑکوں کی تصاویر بھی شامل ہیں۔

ادھر یمن کی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ حوثی ملیشیا ریاست کے ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے اور اپنے زیر قبضہ صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو کھولنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ یہ بات یمنی نائب وزیر خارجہ محمد الحضرمی نے یمن میں جرمنی کی سفیر کیرولا ہالٹکیمبر سے ملاقات کے دوران کہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سویڈن مشاورت میں حوثیوں کی ہٹ دھرمی مزید سمجھوتوں تک نہ پہنچنے کا سبب بنی۔ ان میں بین الاقوامی تجارتی پروازوں کے لیے صنعاء کے ہوائی اڈے کو کھولنے سے متعلق سمجھوتا بھی شامل تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں