.

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں حوثیوں کی جیلوں میں وحشیانہ تشدد کا بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حوثی ملیشیا پر بڑے جرائم کے ارتکاب اور اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں مخالفین کے ساتھ سیاسی حساب چکانے کے واسطے عدلیہ کو استعمال کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ایمنسٹی کے مطابق ان میں بعض کارستانیاں جنگی جرائم کی حدوں تک پہنچی ہوئی ہیں۔

بدھ کے روز ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ویب سائٹ پر جاری رپورٹ میں باور کرایا گیا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے مخالف مردوں اور خواتین کے خلاف کارروائیوں میں جبری روپوشی اور قید خانوں میں بدترین تشدد شامل ہے۔ تشدد میں کئی گھنٹوں تک چھت سے الٹا لٹکانا، جسم کے حساس مقامات پر گھونسے اور لاتیں برسانا اور آبرو ریزی کی دھمکیاں اہم ترین ہیں۔

تنظیم کی رپورٹ میں ایک خاتون اور دو مردوں کا کیس مذکور ہے جن کو جبری طور پر غائب کیا گیا تھا۔ انہیں صنعاء کی ایک عدالت میں ظلم سے بھرپور قانونی کارروائی کے ذریعے موت کی سزا سنائی گئی ،،، اور اس سے قبل انتہائی ناروا برتاؤ کا نشانہ بنایا گیا۔

صنعاء میں حوثیوں کے زیر کنٹرول فوجداری عدالت نے بدھ کے روز ایک خاتون اور دو مردوں کو موت کی سزا سنائی جن کے نام اسماء العميسی ، سعید الرویشد اور احمد باوزیر ہیں۔ ان کے علاوہ چوتھے ملزم ماطر العميسی کو 15 سال قید کی سزا سنائی گئی، یہ اسماء العميسی کے والد ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک سینئر خاتون مشیر راویہ راجح کہتی ہیں کہ "ایسے میں جب کہ یمن میں مسلح تنازع جاری ہے، اسماء العمیسی اور تین دیگر ملزمان کے خلاف جابرانہ عدالتی کارروائی کے ذریعے فیصلہ سنایا جانا حوثیوں کی جانب سے سیاسی حساب چکتا کرنے کے واسطے عدلیہ کے استعمال کے سوا کچھ نہیں۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ "ملزمان کے خلاف عدالتی کارروائی بین الاقوامی قانون کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کے بعد عمل میں آئی جن میں بعض پامالیاں جنگی جرائم کی حد تک پہنچی ہوئی ہیں۔ ملزمان کو جبری روپوشی کا سامنا کرنا پڑا، انہیں بیرونی دنیا سے الگ تھلگ رکھا گیا اور خفیہ طور پر ادھر سے ادھر منتقل کیا گیا۔ عدالتی کارروائی کے آغاز سے قبل انہیں ابتر حالات میں قید رکھا گیا۔ انہیں مال کے واسطے بلیک میل بھی کیا گیا۔ انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا جن میں وکیل سے رابطہ اور گھر والوں سے ملاقات شامل ہے"۔

ملزمان میں سے تین افراد کو اکتوبر 2016 میں صنعاء میں ایک چیک پوسٹ کے نزدیک گرفتار کیا گیا۔ حالات نے اس وقت مزید سنگینی اختیارکر لی جب حوثی حکام نے اسماء العميسی کے شوہر پر "القاعدہ" تنظیم سے تعلق رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان افراد سے پوچھ گچھ شروع کر دی۔

تینوں مردوں کو آٹھ ماہ کے قریب کرمنل انویسٹی گیشن کی عمارت کے ایک حصے میں رکھا گیا جو "خفیہ جیل" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسماء العميسی دو ماہ تک یہاں رہی اور پھر اسے حوثیوں کے زیر کنٹرول مرکزی جیل منتقل کر دیا گیا۔