.

بارکلیز اسکینڈل: حمد بن جاسم کا مشکوک کمیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں بارکلیز بینک کے 4 سابق سینئر عہدے داروں کے خلاف عدالتی کارروائی جاری ہے۔ ان عہدے داروں پر 2008 میں قطر کے سابق وزیراعظم شیخ حمد بن جاسم کو خفیہ کمیشن ادا کرنے سے متعلق الزامات ہیں۔

آج جمعرات کے روز مالی بدعنوانی کے انسداد کے برطانوی بیورو SFO کی جانب سے اس سلسلے میں ثبوت اور دستاویزات پیش کیے جا رہے ہیں۔ گزشتہ چھ روز کے دوران لندن میں روئل ساؤتھ وارک عدالت میں SFO کی جانب سے بارکلیز بینک کے چار سینئر عہدے داروں کے خلاف دائر دعوے کی تفصیلات سنی گئیں۔ توقع ہے کہ عدالت میں اس مقدمے پر 4 سے 6 ماہ تک نظر کی جائے گی۔

برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق SFO کی جانب سے پراسیکیوٹر اڈ براؤن نے گزشتہ روز کی سماعت میں بتایا کہ مذکورہ ملزمان میں شامل ایک ملزم رچرڈ بوتھ نے قطر کے سابق وزیراعظم شیخ حمد بن جاسم کے ساتھ "غیر مناسب" شکل میں طے پانے والے سمجھوتے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ شیخ حمد نے 2008 میں مالیاتی بحران کے دوران برکلیز بینک کی صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قطر کی جانب سے بڑی سرمایہ کاری کے بدلے خفیہ کمیشن طلب کر لیا تھا۔

براؤن کے مطابق بینک کے وکلا کی ٹیم نے خود کو اس بات پر مطمئن کر لیا تھا کہ یہ 2008 کا یہ سمجھوتا قانونی تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بوتھ نے اپنے ساتھی اور ایک دوسرے ملزم روجر جینکنز کو بتایا کہ اگر دیگر سرمایہ کاروں کو انکشاف ہو گیا کہ بارکلیز بینک نے خفیہ ڈیل کی ہے تو بقیہ سرمایہ کار چراغ پا ہو جائیں گے۔

براؤن کے مطابق ڈیل کے اختتامی مراحل میں مشاورتی خدمات کے دو فرضی سمجھوتوں کے تحت غیر قانونی طور پر 32.2 کروڑ پاؤنڈ کا اضافی کمیشن پیش کیا گیا۔ براؤن نے تصدیق کی کہ مذکورہ سمجھوتوں نے 2008 میں سرمایہ کاری کے مقابل شیخ حمد بن جاسم کی جانب سے زیادہ بڑے کمیشن کے مطالبے کو "خفیہ" رکھنے میں مدد دی۔

براؤن نے بتایا کہ رچرڈ بوتھ نے SFO کے تحقیق کاروں کو بتایا کہ جب بینک ان مشاورتی خدمات کے عوض معاوضہ حاصل کرنے پر راضی ہے تو ان کا قانونی ہونا طبعی امر ہے۔

برطانوی بیورو SFO نے برکلیز بینک کے چاروں سابق سینئر عہدے داران پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے اسٹاک ایکسچینج اور بینک کے دیگر سرمایہ کاروں کو پیش کی جانے والی دستاویزات میں جھوٹ بولنے کے علاوہ ہیرا پھیری اور جعل سازی کی۔ اس مقصد کے لیے قطر کے سابق وزیراعظم حمد بن جاسم کے ساتھ مشکوک "اقتصادی مشاورتی سمجھوتا" کیا گیا تا کہ قطری عہدے دار کو 32.2 کروڑ پاؤنڈ کی رقم پہنچائی جا سکے ،،، اور اس کے مقابل بینک 11 ارب پاؤنڈ سے زیادہ کی رقم حاصل کر سکے۔