.

جدہ کے سینما سے وابستہ سعودی کا 40 سال پرانا قصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسلسل چالیس سال کے وقفے کے بعد جدہ میں ایک بار پھر فلمی اور سینما سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ گذشتہ سوموار کی شام شعبہ اطلاعات ونشریات کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بدر الزھرانی نی وزیر اطلاعات ترکی الشبانہ کی نیابت میں 'فاکس نیوز' کے زیراہتمام فلمی نمائش فورم کا افتتاح کیا۔

جدہ شہر کا فلموں‌کے ساتھ گہرا تعلق ہےنہ سنہ 1960ء کے عشرے میں کئی بڑے سینما موجود تھے جن کے ساتھ اس وقت کےسعودی شہریوں کی حسین یادیں بھی وابستہ ہیں۔ انہی سعودیوں میں ایک نام فواد جمجوم کا ہے جو اس وقت عرب فلموں کی پروڈکشن کے ساتھ ساتھ ان کی ڈسٹریبیوشن بھی کرتے۔

فلموں کے شوقین جمجوم کا تعلق جدہ کی البغدادیہ کالونی سے تھا جہاں اس نے فلموں کی نمائش کے لیے کافی سرمایہ کاری کی۔نشریات کے آلات خریدے اور ملک کےمختلف علاقوں میں فلموں کی نمائش میں خود بھی باقاعدگی کے ساتھ شرکت کرتا۔
فواد جمجموم کے صاحب زادے وحید جمجوم نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ میرے والد کی زندگی کا حقیقی آغاز سنہ 1964ء میں سعودی عرب میں سینما کی آمد کے ساتھ ہوا۔ اس وقت پہلے 16 ملی میٹر رول کی فلم متعارف ہوئی۔ اس کے بعد 35 ملی میٹر جاری کی گئی۔ وحید نے بتایا کہ اس وقت جدہ میں ہمارے پاس 8 سینما گھر تھے۔ ہم سینما میں فلموں کی نمائش کے آلات کرائے پرلیتے یا خرید کر انہیں استعمال کرتے۔ سنہ 1969ء میں ہمارے والد نے پہلا جدید سینما پلیٹ فارم قائم کیا جو مصر کے میٹرو گولڈن مائر سینما کی خصوصیات کا حامل تھا۔

وحید نے بتایا کہ دو منزلہ سینما میں بالائی منزل خاندانوں کے لیے تھی جب کہ زیریں منزل الگ الگ آنے والوں کے لیے مختص تھی۔ ایک سال بعد اس عمارت میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں سارا سامان جل کر راکھ ہوگیا۔

تیس فلموں کی پروڈکشن

اپنے والد کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے سعودی نوجوان نے کہا کہ ان کے والد عرب سینما اور فلموں سے بے حد متاثر تھے۔ انہوں نے خود بھی 30 فلمیں پروڈیوس کیں جن میں اس دور کے مصری فن کاروں کوشامل کیا گیا۔ ان فلموں میں کام کرنے والوں میں عادل امام جیسے ستارے شامل تھے۔

وحید نے بتایا کہ فواد جمجوم پہلے شخص ہیں جنہوں‌نے سعودی عرب میں ویڈیو متعارف کرائی۔ ان کے پاس شوبز کی صنعت کے فروغ کے لیے کئی اہم آئیڈیاز تھے۔

وحید نے بتایا کہ اس کے والد اور ان کے دیگر ساتھیوں‌نے سینما کا دائرہ جدہ سے ریاض تک بڑھا دیا۔ اس وقت کلب ان سے فلمیں لیتے اور یہ اچھا خاصا آمدنی کا ذریعہ تھا۔ حتیٰ کہ بعض اوقات فلاحی تنظیمیں بھی سینمائوں میں فلمیں چلاتیں اور اچھا خاصا پیسا جمع کرتیں۔ اس وقت ایک فلم دیکھنے کے لیے کم سے کم ٹکٹ 10 ریال کی تھی۔