.

ہمارا تیل ترکی میں چوری کیا جا رہا ہے: عراقی رکن پارلیمنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں بدھ کے روز ترکی کی اراضی میں عراق کے تیل کے چوری ہونے کی خبر نمایاں رہی۔ اس حوالے سے زیر گردش ایک وڈیو میں عراق سے ترکی تک پھیلی ایک پائپ لائن سے بنا کسی روک ٹوک تیل چوری ہونے کا منظر دیکھا جا سکتا ہے۔

اس حوالے سے ایک کرد سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے عراقی پارلیمنٹ کے رکن غالب محمد نے عراقی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ ترکی کی اراضی کے اندر عراقی تیل چوری کیے جانے کی کارروائیوں کو روکنے کے واسطے جلد حرکت میں آئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے غالب نے کہا کہ تیل چوری کرنے والے عناصر ترکی کی حکومت کے زیر سایہ یہ کارروائیوں انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح عراق کے اندر سے بھی افراد نے ترکی کے اندر کئی علاقوں میں سپلائی پائپ لائن میں سے ذیلی شاخیں نکال کر وسیع پیمانے پر عراقی تیل کی چوری کی ہے۔

رکن پارلیمنٹ کے مطابق انہوں نے وڈیو شواہد کے ساتھ ایسی دستاویزات پیش کی ہیں جن سے کرکوک میں تیل کی اسمگلنگ اور چوری ثابت ہوتی ہے۔ یہ کارروائی کرکوک شہر سے عراقی کردستان کے راستے ترکی کی جیہان بندرگاہ تک جانے والی پائپ لائن کے ذریعے کی جا رہی ہے۔

غالب محمد کے مطابق انہوں نے عراقی وزارت تیل ، وزارت خارجہ اور عراقی انٹیلی جنس کے ادارے سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں اور عراقی تیل کی اسمگلنگ کو روکا جائے جو عراقی مال کی بربادی اور اس کی دولت کی کھلی چوری ہے۔

غالب نے زور دے کر کہا کہ عراقی ذمے داران کے تعاون سے جاری عراقی تیل کی اس چوری کے ذمے دار ترک عہدے داران ہیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ پائپ لائنوں کو کھولنا اور پھر تیل کی چوری کرنا کوئی آسان کام نہیں بلکہ اس واسطے تجربے کار ماہر افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ غالب کے مطابق عراق نے ابھی تک تیل کی پائپ لائنوں کی حفاظت کے لیے روایتی طریقہ اپنایا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم تیل اور تیل کی پائپ لائنوں کی حفاظت کے لیے ترکی کو بھاری رقم ادا کرتے ہیں مگر وہ یہ کام انجام نہیں دے رہا ہے"۔