.

یمن: حوثیوں کے عسکری کیمپوں اور اسلحہ گوداموں کے خلاف عرب اتحاد کی بڑی کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد نے حوثیوں کو سویڈن معاہدے پر عمل درامد کا پابند بنانے کے لیے طاقت کے استعمال کی دھمکی دی ہے۔

عرب اتحاد کی فورسز کے سرکاری ترجمان کرنل ترکی المالکی نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ اتحاد کی مشترکہ فورسز کی قیادت نے بدھ کے روز ایک اہم کارروائی کی۔ اس دوران ایران نواز دہشت گرد حوثی ملیشیا کے کئی عسکری کیمپوں اور ہتھیاروں کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔

کرنل مالکی نے واضح کیا کہ اہداف کو تمام قانونی اور احتیاطی اقدامات کے بعد بین الاقوامی قانون کے مطابق نشانہ بنایا گیا ،،، دہشت گرد حوثی ملیشیا نے ان مقامات کو عسکری کیمپوں میں تبدیل کر رکھا تھا تا کہ جنگجوؤں کو تیار کر کے انہیں اسلحے سے لیس کرنے کے بعد الحدیدہ صوبے بھیجا جا سکے۔

کرنل مالکی نے واضح کیا کہ 23 جنوری کو کی جانے والی یہ کارروائی سویڈن معاہدے کے متن کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ کارروائی میں ذمار صوبے میں ایک کیمپ کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے مسلح جنگجوؤں کو الحدیدہ کی جانب روانہ ہونا تھا۔ کارروائی میں عسکری کیمپ تباہ ہو گیا جب کہ بڑی تعداد میں حوثی ملیشیا کے ارکان مارے گئے۔

کرنل مالکی نے باور کرایا کہ عرب اتحاد کی مشترکہ فورسز کی قیادت باب المندب اور بحر احمر کے جنوب میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے مرکزی کردار کے حوالے سے کاربند ہے۔ وہ حوثیوں کی دھمکیوں کو قابو کرنے اور عالمی جہاز رانی اور تجارت کی آزادی برقرار رکھنے کے لیے ہمہ وقت سرگرم ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ عرب اتحاد نے 7 حوثیوں کو آزاد کر دیا جنہیں صلیب احمر تنظیم نے ریاض سے صنعاء منتقل کر دیا گیا۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس نے بدھ کے روز سعودی عرب کے زیر قیادت عرب اتحاد کی جانب سے 7 حوثی قیدیوں کی رہائی کی تصدیق کی۔