.

امریکی خاتون صحافی کی ہلاکت میں بشار حکومت کے ملوث ہونے کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ایک عدالت نے بدھ کے روز جاری اپنے فیصلے میں شامی حکومت کو امریکی خاتون صحافی میری کولفن کی ہلاکت کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔ کولفن کو 2012 میں شام میں حمص کے نواح میں دیہی علاقے بابا عمرو میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

عدالت کے مطابق شامی حکومت نے دانستہ طور پر امریکی صحافی کی جان لی جو اُس وقت برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کی رپورٹر کے طور پر کام کر رہی تھی۔ شامی حکومت نے ایک چھوٹے سے دفتر کو بم باری کا نشانہ بنایا جہاں کولفن اپنے ساتھیوں سمیت اخباری رپورٹیں تیار کرتی تھی۔ واقعے میں کولفن کے ساتھ فرانسیسی کیمرہ مین بھی مارا گیا تھا۔

امریکی عدالت کے فیصلے میں بشار حکومت کو واقعے میں دانستہ طور پر ملوث ہونے کے سبب 30 کروڑ سے زیادہ زر تلافی کی ادائیگی کا حکم دیا ہے۔

امریکی خاتون صحافی 22 فروری 2012 کو حمص کے نواحی علاقے بابا عمرو میں اس وقت ہلاک ہو گئی تھی جب شامی حکومت کی فورسز نے کولفن اور اس کے ساتھیوں کے کام کی جگہ کو بم باری کا نشانہ بنایا۔ کولفن کے ایک دوست ڈاکٹر فرینکلن کا کہنا ہے کہ جائے مقام پر 11 میزائل اور راکٹ داغے گئے تھے۔

واضح رہے کہ کولفن کی ہلاکت کے چند ہفتوں بعد بشار الاسد نے اپنی حکومت پر عائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی فوج کو بم باری کے دوران کولفن کی جگہ کا معلوم نہیں تھا۔ بشار کا کہنا تھا کہ کولفن غیر قانونی طور پر شام میں داخل ہوئی تھی۔

اپریل 2018 میں امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں دستاویزات کا سب سے بڑا مجموعہ پیش کیا گیا جن سے ثابت ہوتا ہے کہ شامی سرکاری فوج نے دانستہ طور پر امریکی خاتون صحافی کو ہلاک کیا۔

امریکی فیڈرل کورٹ میں 200 سے زیادہ سمعی اور بصری دستاویزات پیش کی گئیں۔ شام سے باہر خفیہ طور پر اسمگل کی جانے والی ان دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ میری کولفن کا قتل شامی حکومت کے وسیع منصوبے کا حصہ تھا۔ اس کا مقصد مخالفین اور ہر اس شخص کو خاموش کرانا تھا جو شام کی حقیقی صورت حال کو دنیا کے سامنے لانے میں مصروف ہو۔

امریکی خاتون صحافی کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ میری کولفن کو اس وجہ سے قتل کیا گیا کہ اس نے بشار الاسد کی وحشی حکومت کے جرائم کو بے نقاب کیا تھا۔

میری کولفن کو (حقیقت کی آنکھ) کا نام دیا گیا تھا جو 2001 میں سری لنکا میں خانہ جنگی کی کوریج کے دوران اپنی ایک آنکھ سے محروم ہو گئی تھی۔ میری کی دلیرانہ صحافت کی حوصلہ افزائی کے واسطے اسے کئی ایوارڈز سے نوازا گیا۔