.

ایرانی سکیورٹی عہدے دار کے سیکڑوں دستاویزات سمیت فرار ہونے کی خبریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں اپوزیشن کی ویب سائٹس کے مطابق ایرانی قومی سلامتی کی سپریم کونسل میں سائبر اور میزائل آپریشنز کے شعبے کے ایک اہم مشیر تورج اسماعیلی نے فرار ہو کر ترکی میں ایک مغربی قونصل خانے میں پناہ لے لی ہے۔ تورج کے قبضے میں سیکڑوں اہم خفیہ دستاویزات موجود ہیں۔

ایران میں ISLAMIC STATE OF IRAN CRIME RESEARCH CENTER یعنی ISICRC کی انگریزی ویب سائٹ نے قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے سکریٹری علی شمخانی کے ایک مقرب ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ تورج اتوار 13 جنوری کو فرار ہوا۔ ویب سائٹ کے مطابق تورج استنبول میں ہوٹلAvant Garde Taksim میں روپوش تھا۔ ایرانی انٹیلی جنس نے ترکی کی انٹیلجنس ایجنسی (MIT) کے تعاون سے ہوٹل پر چھاپا مارا تا کہ تورج کو گرفتار کیا جا سکے۔ تاہم وہ پہلے ہی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ کہا جا رہا ہے کہ تورج نے استنبول میں ایک مغربی ملک کے قونصل خانے میں پناہ لی ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی انٹیلی جنس کی تورج کو پکڑنے کی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں جب کہ اس کے پاس ایرانی میزائل پروگرام اور سائبر آپریشنز سے متعلق سیکٹروں دستاویزات ہیں۔

ویب سائٹ نے بتایا کہ اپریل 2018 سے ایرانی قومی سلامتی کے تین سینئر معاونین گرفتار ہیں۔ علی رضا زرافیان، ایڈمرل عیسی گل فردی اور غفور در غازی پر جاسوسی کے الزامات ہیں۔

ادھر ایرانی اپوزیشن کی فارسی زبان کی ویب سائٹ"AVA Today" نے بتایا ہے کہ ڈاکٹر تورج اسماعیلی کو ایرانی نظام کے شہری دفاع کے امور میں ایک مرکزی منصوبہ ساز اور تجزیہ کار شمار کیا جاتا ہے۔ وہ ایرانی قومی سلامتی کی سپریم کونسل میں سائبر امور کے مشیر کے طور پر کام کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ اس خبر کا ذکر ایران میں کسی مقامی میڈیا پر نہیں آیا۔ کسی حکومتی ذریعے نے بھی اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ صرف اپوزیشن کی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر بعض سرگرم حلقوں نے اس کو نشر کیا ہے۔