.

بارکلیز بینک کے مقدمے میں قطری ملزمان کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ کے ایک جج نے جیوری ٹرائل میں کہا ہے کہ بارکلیز بینک کے مقدمے کے حوالے سے قطر کے کئی اداروں اور افراد کو ملزمان کی فہرست میں شامل کیا جائے۔

برطانوی اخبار Financial Times کے مطابق جسٹس روبرٹ جے کا مطالبہ اس وجہ سے سامنے آیا ہے کہ استغاثہ نے اپنے دعوے میں کہا ہے کہ قطر کے ادارے اور افراد بھی اس "بد دیانتی" کے فعل میں شریک ہیں جس کے تحت برکلیز بینک کے 4 سابق سینئر عہدے داران کے خلاف عدالتی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

جسٹس جے نے مقدمے کی ساتویں سماعت کے روز کہا کہ برطانیہ میں انسداد بدعنوانی کے بیورو SFO نے برکلیز بینک کے چاروں سابق عہدے داران پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے قطر کے سابق وزییر اعظم حمد بن جاسم اور قطری sovereign-wealth fund کے ساتھ جعلی ضمنی سمجھوتے کیے تا کہ 2008 میں جلد از جلد قطری سرمائے کی خطیر رقم حاصل کی جا سکے۔ ان عہدے داران نے "مشاورتی خدمات کے سمجھوتوں "کے نام پر قطری عہدے دار کو دیگر سرمایہ کاروں کی نسبت زیادہ کمیشن ادا کیا۔

جسٹس جے کے مطابق اگر مشاورتی خدمات کے سمجھوتوں میں دوسری جانب قطری ادارہ تھا تو پھرSFO کی منطق کے مطابق قطری ادارے سے متعلق ایک یا زیادہ افراد خواہ جتنے بھی ہوں وہ بھی بد دیانت تھے اور وہ فوجداری نقطہ نظر سے بد دیانتی کے ارتکاب میں برابر کے شریک ہیں۔

واضح رہے کہ SFO کے پراسیکیوٹر نے اپنے دعوے میں قطریوں کو بد دیانتی کا ملزم ٹھہرانے سے گریز کیا تھا۔ اس لیے کہ قطری ادارہ یا افراد عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں اورSFO کے دفتر کو یہ توقع نہیں کہ ان افراد کو بطور گواہ طلب کیا جائے گا۔

برطانوی SFO نے برکلیز بینک کے چاروں سابق سینئر عہدے داران پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے اسٹاک ایکسچینج اور بینک کے دیگر سرمایہ کاروں کو پیش کی جانے والی دستاویزات میں جھوٹ بولنے کے علاوہ ہیرا پھیری اور جعل سازی کی۔ اس مقصد کے لیے قطر کے سابق وزیراعظم حمد بن جاسم کے ساتھ مشکوک "اقتصادی مشاورتی سمجھوتا" کیا گیا تا کہ قطری عہدے دار کو 32.2 کروڑ پاؤنڈ کی رقم پہنچائی جا سکے اور اس کے مقابل بینک 11 ارب پاؤنڈ سے زیادہ کی رقم حاصل کر سکے۔