.

شام میں شدید سردی سے بچے مررہے ہیں: عالمی ادارہ صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ادارہ صحت کی طرف سے جاری ایک رپورٹ میں‌بتایا گیا ہے کہ شام میں پناہ گزین کیمپوں میں پناہ گزینوں کے پاس سردی سے بچنے کے لیے‌خاطر خواہ انتظامات نہیں جس کے نتیجے میں نومولود بچوں سمیت بڑی عمر کے افراد بھی شدید سردی میں لقمہ اجل بن رہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شمال مشرقی عراق کے الھول پناہ گزین کیمپ میں گذشتہ آٹھ ہفتوں کے دوران شدید سردی کے نتیجے میں 29 نومولود بچے جان کی بازی ہارگئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ الھول پناہ گزین کیمپ میں بہت زیادہ تعداد میں لوگ جمع ہوچکے ہیں اور وہاں انہیں طبی سہولیات سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گذشتہ چند ماہ کے دوران مزید 23 ہزار افراد الھول پناہ گزین کیمپ میں پہنچے ہیں۔

عالمی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دیر الزور میں داعش اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں بڑی تعداد وہاں سے ہجرت پر مجبور ہوئی ہے۔

شام میں‌عالمی ادارہ صحت کی مندوبہ الیزابیتھ ھوف کا کہنا ہے کہ الھول پناہ گزین کیمپ کی صورت حال دردناک ہے۔ سخت ترین سردی کے باعث بچے مررہےہیں اور والدین کے پاس بچوں کو سردے سے بچانے کا کوئی خاطرخواہ انتظام نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ھوف کا کہنا تھاکہ کیمپ میں صحت کی صورت حال دگر گوں ہے اور 33 ہزار افراد جن میں سے بیشتر بچے اور عورتیں شامل ہیں سخت سردی میں وقت گذار رہے ہیں۔

انہوں‌نے کہا کہ ھجرت کرکے نئے آنے والے شہری کئی دن سفر میں گذارتے ہیں۔ ان کا گذر پہاڑوں اور سرد ترین مقامات سے ہوتا ہے۔ رات کی سخت سردی میں ان میں سے بیشتر بیمارہوجاتے ہیں جب کہ کم سن بچے سردی کی تاب نہ لا کر جان کی بازی ہاردیتے ہیں۔'