.

اسرائیلی اٹارنی جنرل کا انتخابات سے قبل نیتن یاہو کو مجرم قرار دینے کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے اٹارنی جنرل ایویچائی مینڈوبلٹ [Avichai Mandelblit] کا کہنا ہے کہ اگر انہوں نے جواز کا حامل سمجھا تو ایسا کوئی قانونی سبب نہیں جو انہیں نو اپریل کو مقررہ انتخابات سے قبل وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو بدعنوانی کا مجرم قرار دینے سے روکے۔

جمعہ کی شب اسرائیلی ٹی وی نے اٹارنی جنرل کے حوالے سے بتایا کہ ان کی ٹیم ابھی تک مقدمے پر غور کر رہی ہے اور جلد از جلد فیصلہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

نیتن یاہو کو تین مقدمات میں فرد جرم کے امکان کا سامنا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کسی بھی خلاف ورزی کے ارتکاب کا انکار کر چکے ہیں۔

ابھی تک انتخابات میں کامیابی نیتن یاہو کا نصیب نظر آ رہی ہے تاہم سروے رپورٹس کے مطابق ان کے ایک اہم ترین حریف سابق جنرل بینی گینٹس کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

نیتن یاہو پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر اٹارنی جنرل نے اُن پر الزامات سے متعلق پولیس کی سفارشات قبول کرنے کے ارادے کا اعلان کیا تو وہ انتخابی دوڑ سے ہر گز دست بردار نہیں ہوں گے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کے قابل اعتماد ساتھیوں نے ٹیلی کام ادارے بیزیق کو ضابطے کے منافی رعایت دے کر لاکھوں امریکی ڈالر کی مالی منفعت فراہم کی ہے۔ اس کے جواب میں اس مواصلاتی ادارے نے اپنی ویب سائٹ پر اسرائیلی وزیر اعظم کی غیر معمولی کوریج کی تھی۔

ایک دوسرے معاملے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے اپنے ایک ارب پتی دوست سے تحائف وصول کیے اور یہ اُن کے منصب کے منافی ہے۔