.

اسرائیلی فوج کی غزہ میں فلسطینی مظاہرین پر فائرنگ سے 32 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران اسرائیلی فوج کی اندھا دھند فائرنگ سے 32 فلسطینی زخمی ہو گئے۔

نماز جمعہ کے اجتماعات کے بعد سیکڑوں فلسطینیوں نے غزہ کی مشرقی سرحد پر "حق واپسی" ریلیاں نکالیں اور اسرائیلی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ فلسطینی نوجوانوں کی بڑی تعداد نے سرحد کی طرف بڑھنے کی کوشش کی جس پر اسرائیلی فوج نے ان پر اندھا دھند گولیاں چلائیں اور براہ راست فائرنگ کی س کے نتیجے میں 32 فلسطینی مظاہرین زخمی ہو گئے۔

غزہ میں وزارت صحت کے حکام کے مطابق اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ سے درجنوں افراد دم گھٹنے سے بے ہوش ہو گئے۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے داغا گیا آنسو گیس کا شیل ایک مقامی امدادی کارکن کے چہرہ پر جا لگا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگیا جب کہ زخمیوں میں ایک صحافی بھی شامل ہے۔

خیال رہے کہ غزہ کی پٹی میں 30 مارچ 2018ء سے احتجاج جاری ہے۔ 'حق واپسی اور انسداد معاشی ناکہ بندی غزہ' کے احتجاج کو مسلسل 45 ہفتے ہوچکے ہیں۔ اس دوران اسرائیلی فوج نے فلسطینی مظاہرین کے خلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا جس کے نتیجے میں 270 فلسطینی شہید اور 25 ہزار سے زاید زخمی ہو چکے ہیں۔