.

انقلاب کے 40 ویں ’جشن‘ پر ایران میں نئے کروز میزائل کی نمائش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انقلاب ایران کی 40 ویں سالگرہ کے موقع پر تہران نے ایک نئے کروز میزائل کی نمائش کی جا رہی ہے۔ ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق زمین سے زمین تک داغا جانے والا یہ میزائل تیرہ سو کلومیٹر [آٹھ سو میل] دور اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی اہلیت رکھتا ہے۔

ایرانی وزیر دفاع امیر حاتمی نے سرکاری ٹی وی پر میزائل کی نمائش کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ’’اس میزائل کو لانچ کرنے میں انتہائی کم وقت درکار ہے اور یہ انتہائی کم بلندی پر پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘‘

مسٹر حاتمی کے بقول زمین سے زمین تک مار کرنے والا نئے میزائل کا نام ’’ھویزہ‘‘ رکھا گیا ہے۔یہ میزائل کروز میزائل کی سومار فیملی سے تعلق رکھتا ہے، جسے 2015 میں ایران میں متعارف کرایا گیا تھا۔

مغربی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اپنی اسلحہ سازی کی صلاحیت سے متعلق اکثر مبالغہ آرائی سے کام لیتا ہے، اگرچہ دنیا اور بالخصوص خطے میں اس کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں سے متعلق تشویش پائی جاتی ہے۔

اسی سال جنوری میں ایران نے امریکا کی جانب سے سیٹلائٹ لانچ کرنے سے متعلق وارننگ مسترد کرنے ہوئے سیٹلائٹ لانچ کا ناکام تجربہ کیا تھا۔

واشنگٹن نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ وہ سیٹلائٹ لانچ سے متعلق اپنے راکٹ تجربے کرنے سے باز رہے کیونکہ اس میں بیلسٹک میزائل ٹکنالوجی استعمال ہوتی ہے جو اقوام متحدہ کی طرف سے ایران پر عائد پابندیوں کی وجہ سے ممنوع ہے۔

امریکا کو تشویش ہے کہ ایران سیٹلائٹ کو مدار تک بھیجنے کے لئے استعمال ہونے والی دور مار بیلسٹک ٹکنالوجی کو وار ہیڈز داغنے کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔