.

حماس اور اسلامی جہاد کے قائدین کی مصالحتی مذاکرات کے لئے قاہرہ آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی دھڑوں میں مصر کی زیر نگرانی مصالحتی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے فلسطین کی دو بڑی تنظیموں 'حماس' اور 'اسلامی جہاد' کے رہ نما قاہرہ پہنچ گئے ہیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق حماس اور اسلامی جہاد کے وفود قاہرہ میں مصری حکام کے ساتھ غزہ میں اسرائیل سے جنگ بندی اور فلسطینی دھڑوں میں مصالحت پر بات چیت کر رہے ہیں۔

غزہ میں ایک سینیر عُہدیدار نے بتایا کہ اسلامی تحریک مزاحمت 'حماس' کے سیاسی شعبے کے صدر اسماعیل ھنیہ ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد کے ہمراہ اتوار کو قاہرہ پہنچے جہاں انہوں نے مصری سیکیورٹی حکام سے بات چیت کی ہے۔ اسی طرح اسلامی جہاد کے رہ نما زیاد النخالہ کی قیادت میں تنظیم کا وفد گذشتہ روز قاہرہ پہنچا۔

خیال رہے کہ حماس اور صدر محمود عباس کے درمیان گذشتہ ایک عشرے سے سخت اختلافات چل رہے ہیں اور دونوں کے درمیان مصالحت کی کئی کوششیں کی گئیں جو ثمر آور ثابت نہیں ہوسکیں۔

مصر ایک جانب فلسطینی دھڑوں کے درمیان مصالحت کرانے کے لیے سرگرم ہے اور دوسری طرف حماس اور اسرائیل کو غزہ میں ایک نئی جنگ چھیڑنے سے روکنے کے لیے بھی کوشاں ہے۔ گذشتہ کچھ عرصے سے مصری وفود کے فلسطینی علاقوں میں دورے بھی جاری ہیں اور فلسطینی تنظیموں کی قیادت بھی قاہرہ کے دورے کرتی رہی ہے۔

ایک فلسطینی عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر 'رائٹرز' کو بتایا کہ مصر غزہ میں ایک نئی جنگ چھڑنے کو روکنے اور اہالیان غزہ کی معیشت کی بہتری کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

گذشتہ ماہ حماس اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان اس وقت تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے تھے جب صدر عباس نے غزہ کی مصر کی سرحد پر قائم رفح کراسنگ سے سرکاری اہلکار ہٹا دیے تھے۔ اس اقدام کے بعد قاہرہ نے گذرگاہ بند کردی تھی۔

غزہ میں فلسطینی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مصر نے غیر علانیہ طور پر رفح گذرگاہ گذشتہ ہفتے کھلی رکھی ہے۔ حماس کے حکام کا کہنا ہے کہ رفح گذرگاہ سے دوطرفہ آمد ورفت جاری ہے تاہم مصر نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

کل اتوارکو جب اسماعیل ھنیہ رفح گذرگاہ پر پہنچے تو ان کے ہمراہ دسیوں عام شہری بھی موجود تھے جو ان کے ساتھ بیرون ملک روانہ ہو گئے۔