.

کمائرٹ کی الحدیدہ سے متعلق پیشکش کا ہنوز جواب نہیں آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغربی یمن کے شہر الحدیدہ میں اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی نگرانی کرنے والی مبصر ٹیم کے سربراہ جنرل پیٹرک کمائرٹ نے علاقے میں موجود بندرگاہوں سے حوثی ملیشیا اور یمنی فوج کے انخلا کے بعد نئے سرے سے فورس کی تعیناتی کے بارے میں ایک تجویز پیش کی ہے۔

یمنی حکومت کے ذرائع نے توقع ظاہر کی ہے کہ دونوں فریق جنرل پیٹرک کی تجویز پر اپنے ردعمل کا آج بروز پیر اظہار کریں گے۔

اس سے قبل اتوار کے روز بحیرہ احمر میں یو این کے بحری جہاز ’’واس اپالو‘‘ پر یمنی حکومت اور حوثی ملیشیا کے نمائندوں کا تیسرا اجلاس منعقد ہوا۔

’’العربیہ‘‘ کے نامہ نگار نے بتایا کہ اجلاس کا آغاز مقامی وقت صبح دس بجے ہوا۔ یمنی حکومت اور حوثی ملیشیا کے نمائندوں کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ چار روز تک جاری رہے گا۔

ادھر سیز فائر کمیٹی کے ذرائع نے بتایا کہ حوثی ملیشیا نے ابتدائی بات چیت میں سیز فائر کی توثیق کرنے سے انکار کر دیا۔ جنرل پیٹرک نے فضائی حملے روکنے کے اعلان کے بعد ایجنڈے میں پہلے نمبر پر سیز فائر کی توثیق کی پیشکش کی تھی۔

مذاکرات میں شامل یمنی حکومت کے ایک عہدیدار نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اتوار کے روز ہونے والے مذاکرات میں ’’جنگ بندی پر عمل درآمد، انسانی کوریڈور کھولنے اور سویڈن معاہدے کی پاس میں شہر اور اس کی بندرگاہوں سے انخلا کی ضرورت پر زور دیا گیا۔‘‘

یاد رہے کہ یو این منظوری کے بعد الحدیدہ اور اس کی نواحی بندرگاہوں پر سیز فائر کی نگرانی کے لئے 75 سویلین مبصر بھیجے گئے، لیکن اس وقت زمین پر صرف بیس مبصر فائر بندی کی نگرانی کے لئے موجود ہیں۔

منصوبہ کے مطابق دونوں فریقوں کو سات جنوری تک اپنی اپنی فوجیں علاقے سے نکالنا تھیں تاکہ الحدیدہ پر وسیع البنیاد حملے کو روکا جا سکے لیکن حوثیوں کی ہٹ دھرمی اور شہر کی بندرگاہوں کا کنٹرول نہ چھوڑنے کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو سکا۔