سیکیورٹی کونسل کے بیان کے بعد الحدیدہ میں حوثیوں کے حملے تیز ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں حوثی باغی ملیشیا نے پیر کی شام الحدیدہ شہر کے مشرق میں رہائشی علاقوں اور یمنی فوج کے ٹھکانوں پر فائرنگ اور راکٹ حملے کئے ہیں۔ یہ جارحیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے جاری اس بیان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آئی جس میں حوثیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مزید تاخیر کے بغیر الحدیدہ شہر کی بندرگاہوں سے اپنی فورسز کو ہٹا لیں۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کی رابطہ کار کار کمیٹی کا اجلاس جنرل پیٹرک کمائرٹ کی سربراہی میں الحدیدہ کی بندرگاہ کے سامنے اقوام متحدہ کے بحری جہاز پر ہونے والا اہم اجلاس ایک بار پھر بے نتیجہ ثابت ہوا۔ اجلاس میں یمنی حکومت نے اقوام متحدہ کے مشن کی تجاویز قبول کر لیں جب کہ حوثی باغیوں نے انہیں مسترد کر دیا۔

ادھر مقامی اخباری ویب سائٹس نے یمنی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حوثی ملیشیا نے یمن کے شہر 7 جولائی کے اطراف یمنی فوج کے ٹھکانوں کی جانب ایک وسیع حملہ کیا۔ اس دوران گھمسان کی لڑائی کے بعد باغیوں کا حملہ پسپا کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ 18 دسمبر کو سویڈن معاہدے پر دستخط اور اقوام متحدہ کی سرپرستی میں الحدیدہ میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے حوثی ملیشیا نے فائر بندی کی خلاف ورزیوں اور یمنی فوج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

سلامتی کونسل نے پیر کے روز اپنے بیان میں یمن میں دونوں فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مستقل امن کو یقینی بنانے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ بیان میں زور دیا گیا کہ فریقین اپنے جذبات پر قابو رکھیں، کشیدگی کو کم کریں، اسٹاک ہوم سمجھوتے کی پاسداری کریں اور اس پر فوری عمل درامد کو یقینی بنائیں۔

سلامتی کونسل نے یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس نے مطالبہ کیا کہ وہ تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ رہیں تاکہ سیاسی تصفیے کے لئے درکار ضروری اقدامات پر غور کیا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں