شام میں‌ پکڑے گئے جنگجوئوں کو ان کے ملکوں کے حوالے کرنے کا امریکی مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا نے شام میں‌ سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے ہاں گرفتار کیے گئے 'داعشی' جنگجوئوں کو ان کے ملکوں‌کے حوالے کرنے اور ان کے خلاف مقدمات چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکا کی طرف سے یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف خود امریکی فوج کو بھی شام سے نکالنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ شام میں 'داعشی' جنگجوئوں‌ کی موجودگی امریکا اور اس کے اتحادیوں جن میں فرانس بھی شامل ہے کے لیے انتہائی حساس اور خطرناک سمجھی جا ری ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان رابرٹ بالا ڈینو نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا شام میں موجود داعشی جنگجوئوں کو ان کے ملکوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ جن ملکوں کے جنگجو شام میں موجود ہیں انہیں‌ خود حرکت میں آنا چاہیے اور اپنے جنگجوئوں‌کو واپس بلا کر ان کے خلاف عدالتوں میں دہشت گردی کے الزامات کےتحت مقدمات چلائے جانے چاہئیں۔

امریکا نے کہا ہے کہ وہ شام میں موجود جنگجوئوں کی ان کی ملکوں کو واپس کرنے کی کوششیں‌ جاری رکھے گا۔

یہ پیش رفت امریکی اتحادیوں کی طرف سے جاری کی گئی اور رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے جس میں ان ممالک کا کہنا ہے کہ شام میں بچ جانے والے جنگجوئوں کے مستقبل کے حوالے سے ٹھوس فیصلہ کرنا ہوگا تاکہ ان کی جانب سے کسی قسم کے‌خطرات لاحق نہ ہوں۔

امریکا کا کہناہے کہ شام میں ڈیموکریٹک فورسز نے داعش کےخلاف آپریشن میں بڑی تعدادمیں داعشی جنگجوئوں کو گرفتار کیا ہے۔ شام کےشہر الرقہ میں داعش کو شکست دینے میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز کا کلیدی کردار سمجھا جاتا ہے۔

انیس دسمبر 2018ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں موجود اپنی تمام فوج جس کی تعداد 2000 ہے کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں امریکی فوج داعش کے خلاف آپریشن کے لیے آئی تھی۔ داعش کو شکست دیے جانے کے بعد اب امریکی فوج کی شام میں قیام کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

تاہم امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے صدرٹرمپ کے موقف کے برعکس موقف اختیار کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ شام میں داعش اب بھی تشویش کا موجب ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں