صدام حسین نے بیٹی کے نام اپنی'موت' کے پروانے میں کیا لکھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوشل میڈیا پرعراق کے مصلوب صدر صدام حسین کا اپنی بیٹی رغد صدام اور دیگر اہل خانہ کے لیے ہاتھ سے لکھا ایک پیغام وائرل ہوا ہے جس میں صدام حسین نے لکھا تھا ’’کہ میری موت اب یقینی ہے۔‘‘

یہ مکتوب رغد صدام حسین کے نام سے "ٹویٹر" پرموجود ایک صفحے کی طرف سے پوسٹ کیا گیا ہے۔ یہ مکمل مکتوب کا کچھ حصہ ہے جس پر'صدام حسین شہید کا اپنی صاحبزادی رغد کے نام پیغام' کے الفاظ درج ہیں۔

تحریری پیغام پر دسمبر 2003ء کی تاریخ موجود ہے۔

صدام حسین نے لکھا ہے کہ 'مجھے پورا یقین ہے کہ یہ لوگ میری موت کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ تاہم اللہ جو چاہے کرتا ہے اور وہ ہر چیز پرقادر ہے'۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ 'میرے پاس ان کا ایک جرنیل آیا جس کےساتھ اس کا ترجمان بھی تھا۔ اس نے مجھے ایک کاغذ تھمایا اور کہا کہ میں اس پر عراقی قوم کے نام پیغام لکھوں کہ وہ ہتھیار پھینک دے اور مسلح جدوجہد ترک کرے۔ یہ دسمبر 2003ء کا واقعہ ہے۔‘

خیال رہے کہ رغد صدام اس سے قبل بھی اپنے والد کے ہاتھ سے لکھے پیغامات اور قصیدے شائع کرتی رہی ہے۔

سنہ 2003ء کے موسم بہار میں‌ امریکا نے عراق پر چڑھائی کرکے صدام حسین کا تختہ الٹ دیا تھا۔ اسی سال صدام حسین کو تکریت میں سرداب کے مقام سے ایک قبر نما گڑھے سے نکالا گیا تھا۔ ان پر تین سال تک مقدمہ چلایا جاتا رہا اور 30 دسمبر عید الاضحیٰ کے روز انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں