گیس سلنڈر کے لیے قطار میں کھڑے ہونے والے شامی وزیر کی کہانی !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام میں بشار الاسد حکومت کا سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ ملک چلانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔

شدید سردی کے سبب پناہ گزین کیمپوں میں 20 سے زیادہ شامی بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ شامی حکومت کے ہمنوا سمجھے جانے والے فن کار اور صحافیوں کی جانب سے بھی شہریوں کے لیے خدمات کی فراہمی کے فقدان پر سخت لہجے میں احتجاج کیا ہے کیوں کہ یہ سارا کچھ حکومتی ارکان کی بدعنوانی کا نتیجہ ہے۔

بشار الاسد حکومت کے ہمنوا حلقوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر تبصروں میں اعلان کیا گیا کہ "شام کے وزیر خزانہ مامون حمدان بھی عوام کی تڑپ میں باہر نکل آئے ہیں۔ حمدان کا کہنا ہے کہ وہ بھی شام کے دیگر شہریوں کی طرح ہیں لہذا "گیس کا سلنڈر حاصل کرنے کے لیے عوام کی لائن میں کھڑے ہو گئے"۔

شامی وزیر کے حوالے سے اس احمقانہ جھوٹ کے نتیجے میں سوشل میڈیا پر انتہائی مضحکہ خیز عبارتوں کے ساتھ لوگوں کا ردعمل سامنے آ یا ہے۔ بالخصوص جب کہ مذکورہ وزیر نے چند روز قبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ ملک میں درحقیقت گیس کا کوئی بحران نہیں بلکہ گیس لینے کے لیے عوام کی قطار کا ہی سرے سے کوئی وجود نہیں ہے!

واضح رہے کہ شامی وزیر خزانہ کا یہ بیان شام میں گیس کے بحران پر سامنے آیا تھا جب کہ یہ بحران آخری چند ہفتوں میں اس حد تک شدت اختیار کر گیا ہے کہ شامی حکومت کے بعض حامی بھی بشار الاسد کو ایسے عبارتوں سے مخاطب کر رہے ہیں جو اس سے قبل ممکن نہ تھا۔

شامی وزیر خزانہ کے مطابق ملک میں گرمائش پہنچانے کے مواد کی عدم فراہمی کا بحران "بیرونی طور پر بنایا ہوا ہے" اور اسے بیرون ملک سے فیس بک لکھاری پھیلا رہے ہیں۔ گویا کہ شامی وزیر کے نزدیک سخت سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے شامیوں کا المیہ بھی ایک بیرونی سازش ہے!

مامون حمدان اس سے قبل ستمبر 2017 میں شامی پارلیمنٹ کے ایک اجلاس میں یہ اعلان فرما چکے ہیں کہ شام میں بھوک نام کی کوئی چیز موجود نہیں ! ... شامی وزیر خزانہ کا یہ فرمان اس وقت سامنے آیا جب شامی عوام اپنی خوابوں میں بھی روٹی حصول کرنے کے لیے کوشاں تھے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ شامی وزیر خزانہ اس چیز (گیس) کے حصول کے واسطے قطار میں جا کھڑے ہوئے جس کا بحران ان کے نزدیک وجود ہی نہیں رکھتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں