یمنی حکومت نے عالمی امن مشن کی تجاویز قبول جبکہ حوثیوں نے مسترد کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں سویڈن جنگ بندی معاہدے پرعمل درآمد کی نگرانی کے لیے قائم کردہ اقوام متحدہ کے امن مشن کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ یمنی حکومت نے مشن کی تجاویز قبول جبکہ حوثی باغیوں نے مسترد کردی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی طرف سے یمن میں‌جنگ بندی کی نگرانی کے لیےقائم کردہ مشن کے سربراہ پیٹرک کمائرٹ نے حوثیوں پر جنگ بندی معاہدے کی شرائط پرعمل درآمد کے لیے دبائو بڑھانے پر زور دیا ہے تاکہ وہ بندرگاہوں سے نکل جائیں اور اپنے جگجوئوں کو مزید نہ پھیلائیں۔

ذرائع کے مطابق کمائرٹ نے یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفیتھس اور دیگر عالمی عہدیداروں سے کہاہے کہ وہ حوثیوں کو جنگ بندی معاہدے کی شرائط پرعمل درآمد کا پابند کرنے کے لیے ان پر دبائو ڈالیں۔ یہ دبائو ایک ایسے وقت میں ڈالا جا رہا ہے جب الحدیدہ شہر اور بندرگاہ پر پیش آنے والے بعض واقعات نے جنگ بندی سمجھوتے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یو این مبصر کمیٹی کے سربراہ پیٹرک کمائرٹ نے یمنی حکومت اور حوثیوں کی قیادت سے بھی ملاقاتیں کی ہیں تاہم ان ملاقاتوں میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی۔

ذرائع کے مطابق یمنی حکومت نے اقوام متحدہ کے مبصر مشن کی طرف سے دی گئی تجاویز اور شرائط سے اتفاق کیا ہے مگر دوسری طرف حوثیوں نے سویڈن معاہدے میں طے شدہ شرائط پرعمل درآمد سے فرار اختیار کرنے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ ان شرائط میں الحدیدہ سے حوثی جنگجوئوں کا مکمل انخلاء اور شہر کا کنٹرول حکومتی فورسز کےحوالے کرنا شامل تھا مگر حوثی نہ صرف جنگجوئوں کو نکالنے میں پس و پیش سے کام لے رہے ہیں بلکہ مزید جنگجوئوں کی تعیناتی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ سویڈن کی میزبانی میں یمنی حکومت اور حوثی ملیشیا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا جس کےبعد اقوام متحدہ نے اس کی نگرانی کے لیے 75 مبصر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں