.

حمد بن جاسم نے ریاست کے ملازم کو اپنی ذاتی کمپنی کے مذاکرات میں استعمال کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں مالی جرائم کے انسداد کے بیورو SFO کی جانب سے استغاثہ کے نمائندے اِڈ براؤن نے ججوں کی جیوری کے سامنے مزید ای میلز اور ٹیلیفونک کالز کا ریکارڈ پیش کیا ہے۔

اس نئے مواد سے معلوم ہوتا ہے کہ قطری عہدے داروں کی جانب سے بارکلیز بینک کے سابق ذمے داران کو کس طرح سے دباؤ کا نشانہ بنایا گیا تاکہ بینک میں سابق قطری وزیراعظم شیخ حمد بن جاسم کی سرمایہ کاری کے حصے کو خفیہ رکھا جا سکے۔

عدالت میں جیوری نے اُس ٹیلیفون کال کے متعلق بات کی جس کے ذریعے حمد بن جاسم نے قطر ہولڈنگ کمپنی کے سربراہ کی حیثیت سے بارکلیز بینک میں مالی رقوم کی منتقلی کے مذاکرات میں پہلی بار شرکت کی۔

بارکلیز بینک میں یورپی مالیاتی اداروں اور مالیاتی خدمات کی انتظامیہ کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر رچرڈ بوتھ کے مطابق شیخ حمد بن جاسم کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کے خواہش مند ہیں کہ بارکلیز میں ان کے خاندان والوں کے بھی کچھ حصص ہونے چاہئیں۔

رچرڈ بوتھ نے بتایا کہ اس وقت قطر ہولڈنگ کمپنی کے قانونی امور کے سربراہ احمد السید نے ملاقات میں کہا کہ "عزت مآب (شیخ حمد بن جاسم) چاہتے ہیں کہ بینک میں ان کے حصے کو مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے اور بہتر ہے کہ چیلنجر کمپنی جس کا صدر دفتر برطانوی جزیرے ورجن میں ہے، وہ پانچویں سرمایہ کار ہو اور خصوصی سبسکرپیشن کے سمجھوتے پر دستخط کرے"۔

بوتھ کے مطابق انہوں نے احمد السید کو یاد دہانی کرائی کہ بینک پر لازم ہے کہ وہ کمپنی کی شناخت کو ظاہر کرے۔ اس پر احمد السید نے جواب دیا کہ "اس معاملے کو خفیہ رکھنے کا کوئی طریقہ تلاش کرنا چاہیے تا کہ جناب (عزت مآب) ریڈار (پیچھے لگی نظروں) سے دور رہ سکیں"۔

جیوری کے سامنے پڑھی جانے والی ایک علاحدہ ای میل میں رچرڈ بوتھ نے بتایا کہ احمد السید قطر ہولڈنگ کمپنی کے ملازم کے طور پر کام کر رہا تھا جو قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کے زیر انتظام کمپنی ہے۔ تاہم شیخ حمد بن جاسم نے احمد السید کو اپنی ذاتی کمپنی کے لیے حصص خریدنے کے سلسلے میں مذاکرات کی ذمے داری سونپ دی۔

برطانوی SFO نے بارکلیز بینک کے چار سابق سینئر عہدے داران پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے اسٹاک ایکسچینج اور بینک کے دیگر سرمایہ کاروں کو پیش کی جانے والی دستاویزات میں جھوٹ بولنے کے علاوہ ہیرا پھیری اور جعل سازی کی۔ اس مقصد کے لیے قطر کے سابق وزیراعظم حمد بن جاسم کے ساتھ مشکوک "اقتصادی مشاورتی سمجھوتا" کیا گیا تا کہ قطری عہدے دار کو 32.2 کروڑ پاؤنڈ کی رقم (خفیہ کمیشن) پہنچائی جا سکے ،،، اور اس کے مقابل بینک 11 ارب پاؤنڈ سے زیادہ کی رقم حاصل کر سکے۔