.

خمینی نے ایران کے اسلامی انقلاب کے ساتھ 'خیانت' کی تھی: بنی صدر

بانی انقلاب خواتین کے لباس میں آزادی کے وعدے سے بھی مکر گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں سنہ 1979ء میں برپا ہونے والے ولایت فقیہ کے انقلاب کے بعد ملک کے پہلے صدر ابو الحسن بنی صدر نے بانی انقلاب آیت اللہ علی خمینی پر انقلاب کے ساتھ خیانت کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ خمینی نے سنہ 1979ء میں اقتدار ہاتھ میں لینے کے بعد ایرانی انقلاب کے ساتھ خیانت کی تھی۔ ان کے ساتھ بیرون ملک سے ایران واپس آنے والوں کے لیے تلخ یادوں میں سے خمینی کی غیر اصولی سرگرمیاں اور انقلاب کے ساتھ خیانت بھی شامل ہے۔

خیال رہے کہ 85 سالہ ابو الحسن بنی صدر سنہ 1981ء میں فرانس چلے گئے تھے اور وہ مسلسل 40 سال سے وہیں مقیم ہیں۔ جب سے وہ واپس فرانس گئے تب سے اب تک وہ ایرانی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ امید تھی کہ ایک مذہبی رہ نما کی قیادت میں ایران میں بادشاہت کے خلاف برپا ہونے والا انقلاب ملک میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی راہ ہموار کرے گا مگر ہمارا خیال غلط ثابت ہوا۔ انقلاب کے دعوے دار خود ہی اس کے دشمن ہوگئے۔

ایران کے سابق صدر نے ان خیالات کا اظہار پیرس سے باہر فرسائی میں اپنی رہائش گاہ پر دیئے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں قطعی یقین تھا کہ ایک دینی رہ نما ہماری تاریخ کے اصولوں کو عملی شکل دینے کے لیے کام کرے گا۔

خیال رہے کہ خمینی سنہ 1960ء میں ایرانی بادشاہ کے انتقام کی ڈر سے فرار کے بعد پیرس چلے گئے تھے۔ ایران میں بادشاہت کے خلاف اٹھنے والی عوامی احتجاج کی لہر نے خمینی کے لیے واپسی کی راہ ہموار کی۔ فرانس سے ایران واپس آنے والوں میں خمینی کے ہمراہ ابو الحسن بنی صدر بھی شامل تھے۔

بنی صدر کے والد بھی ایک سرکردہ شیعہ مذہبی رہ نما تھے مگر بنی صدر نے فرانس میں اقتصادی شعبے میں تعلیم حاصل کی۔ ان کے خاندان کے آیت اللہ علی خمینی کے ساتھ گہرے مراسم تھے۔ ابو الحسن بنی صدر عراق اور ترکی میں بھی خمینی کے ساتھ رہے اور ان کی ایران واپسی کی راہ ہموار کرنے میں بھی مدد ان کی مدد کی۔

ایک سوال کے جواب میں بنی صدر نے کہا کہ فرانس افکار اور معلومات کے تبادلے کا چوراہا ہے۔ مجھے کویت کی طرف سے بھی دعوت ملی تھی مگر میں‌ فرانس میں زیادہ آزادی کے ساتھ بات کر سکتا ہوں۔

نقاب پر بنی صدر کی رائے

سابق ایرانی صدر ابو الحسن بنی صدر نے کہا کہ خمینی قم شہر کے سرکردہ مذہبی لیڈر ہونے کی بدولت عظیم لیڈر کے طور پر مشہور ہوچکے تھے۔ فرانس سے واپسی کے چند ماہ کے بعد ان سے شکایت کی گئی کہ ایران کے مذہبی حکام خواتین کو چہرے کے نقاب پر مجبور کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسا کرنا خمینی کے اپنے وعدوں کے خلاف تھا۔ ہم پہلے ہی خمینی کے ساتھ یہ طے کرچکے تھے کہ وہ خواتین کے لباس کے معاملے میں مداخلت نہیں کریں گے اور انہیں اپنی مرضی کے انتخاب کا حق دیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ آیت اللہ خمینی نے مجھ سے کہا کہ فرانس میں ہم نے جو عہد کیے تھے میں ان پر عمل درآمد کا پابند نہیں۔ فرانس میں جو کچھ میں نے کہا تھا اگر میں ضروری سمجھوں گا تو اس کے الٹ کروں گا۔ بنی صدر کا کہنا ہے کہ خمینی کا یہ جواب مجھ پر گراں گزرا جسے میں نہیں بھلا سکتا۔

ابو الحسن بنی سدر نے خبردار کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پر اقتصادی پابندیوں کی پالیسی کے توقع کے خلاف نتائج سامنے آئیں گے۔ ان پابندیوں سے عام ایرانی شہریوں کی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ ایرانی رجیم اور حکمرانوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔