.

داعش کو شکست نہیں ہوئی ، زیر زمین چلے گئے : امریکی حکام کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ دفاع کے بعض عہدے داروں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ شام میں داعش شکست سے دوچار نہیں ہوئے بلکہ وہ وقت گزاری کے لیے زیر زمین چلے گئے ہیں اور وہ جنگ زدہ ملک سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے منتظر ہیں۔اس کے بعد وہ دوبار ہ حملے کرسکتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر میں اچانک شام سے اپنے قریباً دو ہزار فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کردیا تھا اور یہ کہا تھا کہ عراق کے بعد شام میں بھی یہ جنگجو گروپ شکست سے دوچار ہوچکا ہے۔ان کے اس اعلان کے بعد سے داعش اپنے زیر قبضہ کم وبیش تمام علاقوں سے محروم ہوچکے ہیں لیکن عسکری حکام کا کہنا ہےکہ داعش نے ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت یہ علاقے خالی کیے ہیں ۔ وہ امریکی فوجیوں کی وطن واپسی کے بعد شام میں چھے ماہ سے ایک سال کے عرصے میں دوبارہ منظم ہوسکتے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی گذشتہ سوموار کو جاری کردہ رپورٹ میں اسی قسم کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ داعش بہت منظم جنگجو ہیں اور وہ شام میں دوبارہ سر اٹھا سکتے ہیں۔

امریکی حکام نے حالیہ ہفتوں کے دوران میں کہا ہے کہ داعش اپنے زیر قبضہ 99.5 فی صد علاقوں کو کھو بیٹھے ہیں اور اس وقت شام کی وادیِ فرات میں 10 مربع کلومیٹر سے بھی کم علاقہ ان کے زیر قبضہ رہ گیا ہے۔امریکا کے محکمہ دفاع کے بعض عہدے داروں کا کہنا ہے کہ داعش کے بہت سے جنگجو شام کے شمال اور مغرب میں حکومت کی عمل داری سے باہر علاقوں کی جانب چلے گئے ہیں۔وہ دوبارہ منظم ہونے تک وہاں چھپے رہ سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے گذشتہ اختتام ہفتہ پر سی بی ایس سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’ داعش کی خلافت کو قریب قریب ناک آؤٹ کیا جاچکا ہے۔اس وقت ہمارا 99 فی صد علاقے پر کنٹرول ہوچکا ہے اور بہت جلد 100 فی صد پر کنٹرول ہوجائے گا‘‘۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شام میں اس وقت داعش کے قریباً دو ہزار جنگجو موجود ہیں اور وہ راہِ فرار اختیار کررہے ہیں مگر اس کے باوجود وہ حملوں اور جوابی حملوں کو منظم کرنے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق امریکا کی مرکزی کمان کو یقین ہے کہ داعش کے جنگجو امریکی فوجیوں کے انخلا کے دوران میں ان پر حملے کرسکتے ہیں۔اگر عراق اور شام کی قومی اور مقامی حکومتیں اہل سنت کے سماجی اقتصادی ، سیاسی اور فرقہ وار تحفظات مناسب انداز میں دور نہیں کرتی ہیں تو داعش پھر مستقبل میں مزاحمتی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں اور وہ شام کے بجائے عراق میں اپنی ان سرگرمیوں کو بروئے کار لاسکتے ہیں۔