.

لیبیا پر عائد ہتھیاروں کی پابندی، ترکی خلاف ورزیوں کے درپے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبی حکام نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ الخمس البحری کی بندرگاہ پر اسلحے کی ایک کھیپ قبضے میں لے لی گئی ہے جو ترکی سے بھیجی گئی تھی۔

ذرائع نے العربیہ کو بتایا ہے کہ لیبیا نے منگل کے روز الخمس کی بندرگاہ پر ایک نامعلوم مسلح جماعت کے لیے ترکی سے آنے والی بکتر بند اور فور وہیل ڈرائیو گاڑیاں بھی ضبط کی ہیں۔

یہ اقدام دو ماہ سے بھی کم عرصے کے دوران انقرہ کی جانب سے سلامتی کونسل کی اُس قرارداد کی تیسری خلاف ورزی ہے جس میں لیبیا کو اسلحے کی فروخت اور منتقلی پر پابندی ہے۔ یہ امر اس بات کی بھی دلیل ہے کہ ترکی 2011 سے انارکی اور شورش کا شکار اس ملک میں مسلح شدت پسند عناصر کو سپورٹ کر رہا ہے۔

لیبیا کے کسٹم حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ کھیپ ترکی کی تیار کردہ 9 بکتر بند گاڑیوں پر مشتمل ہے۔ یہ کھیپ ترکی کی ایک بندرگاہ سے بھیجی گئی تاہم اس کے ساتھ کسی قسم کی متعلقہ دستاویزات نہیں ہیں اور نہ وصول کنندہ فریق کے بارے میں کوئی معلومات ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کسی مسلح ملیشیا کو بھیجی گئی ہے۔

اس سے ایک روز قبل 10 لاکھ 40 ہزار یورو کی بڑی رقم لیبیا سے ترکی اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ یہ رقم بن غازی کے ہوائی اڈے سے استنبول جانے والے طیارے کے ذریعے منتقل کی جا رہی تھی۔

چند ہفتوں قبل مصراتہ کی بندرگاہ کے ذریعے داخل ہونے والی ترکی کے ہتھیاروں کی ایک کھیپ کو قبضے میں لیا گیا تھا۔ یہ کھیپ 20 ہزار پستولوں پر مشتمل تھی۔ گزشتہ برس دسمبر میں لیبیا میں الخمس کی بندرگاہ پر اسلحے اور گولہ بارود کی ایک کھیپ پکڑی گئی تھی جو ترکی سے آنے والے ایک بحری جہاز پر لادی گئی تھی۔

واضح رہے کہ دسمبر میں ہی ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوغلو نے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کا سرکاری دورہ کیا تھا۔ اس دوران لیبیا کی ایک بندرگاہ پر ترک اسلحے کی کھیپ کے اسکینڈل کے سبب لیبیا کے بحران میں انقرہ کے مشتبہ کردار پر شکوک پیدا ہونا شروع ہو گئے۔ ساتھ ہی لیبیا میں مسلح ملیشیاؤں کے لیے ترکی کی سپورٹ کے الزامات کو بھی تقویت ملی۔

ترک وزیر خارجہ کے دورے سے چند روز قبل طرابلس اور مصراتہ کے درمیان واقع الخمس البحری کی بندرگاہ پر لیبیا کے سکیورٹی اداروں نے دو کنٹینرز قبضے میں لے لیے۔ ان میں ہر کنٹینر 40 فٹ کا تھا اور اس میں ہتھیار اور گولہ بارود بھرا ہوا تھا۔ یہ دونوں کنٹینرز ترکی میں مرسین کی بندرگاہ سے آنے والے ایک بحری جہاز کے ذریعے لائے گئے تھے۔ اس جہاز کے متعلق کاغذات میں بیان کی گیا تھا کہ اس پر تعمیراتی سامان لدا ہوا ہے۔

اس واقعے نے لیبیا اور اس کے بیرون وسیع پیمانے پر ہنگامہ اور مذمت کا طوفان کھڑا کر دیا۔ مزید برآں یہ مطالبہ بھی سامنے آیا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے ترکی کی مذمت کی جائے۔ اس لیے کہ ترکی نے لیبیا کو ہتھیاروں کی فروخت اور منتقلی پر پابندی سے متعلق سلامتی کونسل کی قرار داد کی خلاف ورزی کی ہے۔

لیبیا کے سابق سربراہ معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں سال 2011 سے سلامتی کونسل نے لیبیا کو ہتھیاروں کی برآمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔