.

حوثیوں نے صنعاء میں انسانی تجارت کے انسداد کی تنظیم کا دفتر بند کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی ملیشیا نے دارالحکومت صنعاء میں انسانی تجارت کے انسداد کے لیے یمنی تنظیم کے صدر دفتر کو بند کر دیا ہے۔ یہ اقدام تنظیم کی جانب سے باغی ملیشیا کے شرم ناک جرائم کو بے نقاب کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان جرائم میں خواتین کی گرفتاریاں، ان کو خصوصی قید خانوں میں تشدد کا نشانہ بنانا اور حوثی ملیشیا کے زخمی ارکان کے اعضاء نکال کر انہیں ٹھکانے لگانے جیسی کارروائیاں شامل ہیں۔

تنظیم کے سربراہ نبیل فاضل کے مطابق حوثی ملیشیا نے صنعاء میں ان کے دفتر کو بند کر دیا ہے اور تنظیم کے تمام اہل کاروں کا تعاقب کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم ایک سول سوسائٹی ہیں۔ حوثی ملیشیا کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی صورت میں ہمارے پاس محدود آپشن ہیں"۔

نبیل فاضل نے باور کرایا کہ انکے پاس ایسی دستاویزات اور شواہد ہیں جن سے حوثی ملیشیا کے جرائم اور انسانی اعضاء کی چوری اور فروخت ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے مطلوبہ سپورٹ ملنے کی امید ظاہر کی تا کہ تنظیم اپنے مشن کو پوری طرح انجام دے سکے۔

تنظیم کے سربراہ نے انکشاف کیا کہ انہیں اور ان کی ٹیم کو ملیشیا کی جانب سے تنگ کیے جانے اور اغوا کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔ نبیل فاضل نے "خبر" نیوز ایجنسی کے ذریعے انسانی حقوق کی تمام مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے ساتھ اور حوثیوں کا نشانہ بننے والوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کریں اور اس دہشت گرد ٹولے کے حوالے سے فیصلہ کن اور سخت موقف اختیار کریں۔

انسانی تجارت کے انسداد کے لیے یمنی تنظیم کے سربراہ نے واضح کیا کہ ان کو ، ان کے اہل خانہ کو یا تنظیم میں کام کرنے والے کسی بھی ورکر کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمے داری حوثی ملیشیا پر عائد ہو گی۔