.

لیبیا میں کرنل قذافی کا مقرب خاص فوجی گورنر تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی سپریم قومی وفاق کونسل کے چیئرمین فائزالسراج نے بُدھ کے روز مقتول سابق صدر معمر قذافی کے مقرب خاص کو جنوبی لیبیا کا فوجی گورنر تعینات کیا ہے۔ فائز السراج کے اس فیصلے کو لیبیا کے سیاسی حلقوں میں حیرت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سپریم قومی وفاق کونسل کے چیئرمین فائز السراج نے بدھ کے روز جنرل علی سلیمان محمد کنہ کو جنوبی علاقے سبھا کے ملٹری زون کا گورنر مقرر کیا۔

72 سالہ علی کنہ لیبیا کے سابق مرد آہن معمر قذافی کی فوج میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات رہ چکے ہیں جب کہ وہ موجودہ حکومت کے بھی مقربین میں شمار کیے جاتے ہیں۔ جنرل علی کنہ سیف الاسلام قذافی کو ملک کا صدر بنانے کی مہم میں پیش پیش رہنے کے ساتھ سابق نظام کے وفادار ہونے ہونے کے باعث بعض قبائل اور عوامی حلقوں میں سخت تنقید کا سامنا بھی کرچکے ہیں۔

سبھا ملٹری زون کے گورنر کے عہدے پر تعینات ہونے والے قذافی کے مقرب علی کنہ الطوارق قبائل سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ قبیلہ قذافی کے دور میں فوج کے اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی کی وجہ سے مشہور تھا۔ کنہ اس سے قبل سرحدی علاقے اوباری کے گورنر بھی رہ چکے ہیں اور سنہ 1987ء میں اوزو کی آزادی کی لڑائی میں شرکت کے دوران زخمی بھی ہوئے تھے۔

قذافی رجی کے سقوط کے بعد علی کنہ نے اکتوبر 2016ء کو ملک کے جنوب میں ایک نئی فورس تشکیل دی جس میں‌قذافی کے وفاداروں کوشامل کیا گیا۔ انہوں‌نے جنوبی لیبیا میں قیام امن، دہشت گردی کے خلاف جنگ، سرحدوں کے دفاع اور ملک کی سلامتی کا علم بلند کیا اور قذافی کے حامیوں کو اس میں شمولیت کی دعوت دی۔ جون 2017ء کو زنتان جیل سے سیف الاسلام کے نکالنے میں علی کنہ کی عسکری قوت کے استعمال کا بھی شبہ ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنرل علی کنہ لیبیا کی سیاسی قوتوں میں جاری محاذ آرائی کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں مگر ان پر اب بھی کرنل قذافی کے وفادار ہونے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔