الحدیدہ میں نئی صف بندی کے آغاز کے لیے ابتدائی اتفاق رائے ہو گیا: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ یمنی حکومت اور باغی حوثی ملیشیا کے درمیان سویڈن معاہدے کے تحت الحدیدہ میں نئی صف بندی کے آغاز پر سمجھوتا ہو گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نئی صف بندی سے متعلق رابطہ کار کمیٹی کے ارکان رواں ماہ کی تین سے چھ تاریخ کے درمیان الحدیدہ کی بندرگاہ پر اقوام متحدہ کے جہاز تیسری مرتبہ پر اکٹھا ہوئے تھے۔

اقوام متحدہ کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی میں یمنی حکومت اور حوثیوں کے نمائندے شامل ہیں۔

بیان کے مطابق تمام فریقوں نے بات چیت کے دوران فورسز کی متبادل نئی صف بندی اور انسانی راہ داریوں کے کھولے جانے کے حوالے سے متعلق معاملات کے حل کے واسطے تعمیری انداز میں مل جل کر کام کیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ فریقین ابتدائی تصفیے پر متفق ہو گئے ہیں اور اب وہ اپنی اپنی قیادت کے ساتھ مشاورت کریں گے۔

کمیٹی کے سربراہ کو توقع ہے کہ آئندہ ہفتے ایک بار پھر کمیٹی کا اجلاس منعقد ہو گا۔ اس کا مقصد نئی صف بندی سے متعلق تفصیلات کو مکمل کرنا ہے۔ فریقین نے فائر بندی کے حوالے سے اپنے طور پر بھرپور پاسداری کا اظہار کیا ہے۔

یمنی حکومت اور حوثیوں نے گزشتہ برس کے اواخر میں سویڈن میں ہونے والی مشاورت میں اس امر پر متفق ہو گئے تھے کہ فورسز کی مشترکہ نئی صف بندی عمل میں لا کر انہیں الحدیدہ، الصلیف اور راس عیسی کی بندرگاہوں اور الحدیدہ شہر سے باہر لا کر متفقہ مقامات پر پھر سے تعینات کیا جائے۔ اس کے علاوہ الحدیدہ شہر اور مذکورہ بندرگاہوں میں فوری طور پر فائر بندی کی جائے۔

ابھی تک یمنی حکومت اور حوثی ملیشیا کی جانب سے اقوام متحدہ کے حالیہ بیان پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔ علاوہ ازیں نئی صف بندی پر ابتدائی سمجھوتے کے حوالے سے کوئی اضافی تفصیلات واضح نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں