.

ایران بغداد سے اپنے قرضوں کی وصولی کے لیے متحرک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیر تیل بیژن زنگنہ نے انکشاف کیا ہے کہ عراق نے تہران سے درآمد کی جانے والی گیس اور بجلی کی مد میں واجب الادا قرضوں کی واپسی سے انکار کر دیا ہے۔

زنگنہ نے ایک پریس کانفرنس میں عراقی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس اور بجلی سے متعلق قرضوں کو ادا کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عراق اپنے خلاف امریکی پابندیوں کے لاگو ہونے کے خدشے کو بہانہ بنا کر اس موضوع پر بات چیت سے فرار حاصل کر رہا ہے۔

زنگنہ کے مطابق ایران اس وقت ماہانہ 20 کروڑ ڈالر مالیت کی گیس عراق کو برآمد کر رہا ہے اور اس مد میں قرضوں کا حجم دو ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

امریکا نے عراق کو مارچ 2019 تک کی مہلت دی تھی تا کہ اس دوران وہ اپنے بجلی کے اسٹیشنوں کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے ایرانی گیس کا متبادل تلاش کر لے۔

ایران کے مرکزی بینک کے ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ درآمد شدہ توانائی کی مد میں واجب الادا قرضوں سے نمٹنے کے لیے عراق کے ساتھ ایک اہم سمجھوتے پر دستخط ہوئے ہیں۔ یہ پیش رفت ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی کی بغداد میں اپنے ہم منصب علی العلاق سے ملاقات کے دوران سامنے آئی۔

یاد رہے کہ ہمتی نے واضح کیا تھا کہ عراقی حکام جانبین کے بیچ مالی مسائل کی درستی کا سنجیدہ ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق بغداد اور تہران کے درمیان نقدی اور بینکاری تعلقات یورو اور عراقی دینار کی صورت میں ہوں گے۔

اس سے قبل عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی ایران کے مرکزی بینک کے گورنر کے ساتھ ملاقات میں یہ باور کرا چکے ہیں کہ اُن کا ملک ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے نظام کا حصّہ نہیں ہو سکتا۔

سابق وزیراعظم حیدر العبادی کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ ملکی مفاد کے تحفظ میں ایران کے خلاف پابندیوں کو لاگو کرے گی۔