.

ایران کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا عندیہ ، الحشد الشعبی نے اپنے ہی رہ نما کو دھر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں باخبر ذرائع نے جمعرات کی شام بتایا ہے کہ شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے زیر انتظام ابو الفضل العباس بریگیڈ کے رہ نما اوس الخفاجی اور ان کے ہمراہ موجود افراد کو بغداد کے وسطی علاقے کرادہ سے گرفتار کر کے ان کے دفتر کو بند کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق الحشد الشعبی سکیورٹی نامی فورس نے جمعرات کی شام کرادہ میں چار فرضی دفاتر کی تالا بندی کر دی جو کرادہ میں "الحشد الشعبی" ملیشیا کے نام سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔

اس حوالے سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ بند ہونے والے دفاتر میں ایک دفتر اوس الخفاجی کے زیر قیادت گروپ ابو الفضل العباس بریگیڈ چلا رہا تھا۔ یہ کارروائی الحشد الشعبی کی سکیورٹی کے کرادہ کی بلدیہ اور عراقی سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہونے والے اجلاس کے بعد عمل میں آئی۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ الحشد الشعبی سے تعلق رکھنے کا دعوی کرنے والے دفاتر کو بند کیا جائے۔

اوس الخفاجی عراق میں ایرانی مداخلت کے خلاف اعلانیہ مواقف رکھتے ہیں۔ ایک مقامی سیٹلائٹ چینل کے ساتھ انٹرویو میں الخفاجی نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ تہران کی جانب سے عراقی مفادات کے خلاف ہونے کا اعلان کرنے کی صورت میں ایران کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل الخفاجی کی جانب سے الحشد الشعبی کی قیادت کے خلاف مواقف بھی سامنے آ چکے ہیں۔ میڈیا کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے مختلف مواقع پر انہوں نے بتایا کہ الحشد کی قیادت نے دیگر سرگرمیوں میں بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ان سرگرمیوں میں بعض بندرگاہوں اور اقتصادی کمپنیوں میں غیر قانونی طور پر داخل ہونا شامل ہے۔ الخفاجی کے مطابق عدلیہ کو مطلوب بعض رہ نما فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ وہ الحشد الشعبی کے سیاست میں آنے کو اور ایران کی جانب سے اس کے اکثر گروپوں کی سپورٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔