روس کا ترکی سے ادلب سے دہشت گردوں کے انخلاء کے لیے 'ڈو مور' کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

روس نے ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ شام کے شہر ادلب میں موجود عسکریت پسندوں کو وہاں سے نکالنے کے لیے مزید اقدامات کرے۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان 'ماریا زاخاروفا' نے ایک بیان میں کہا کہ ماسکو یہ چاہتا ہے کہ ترکی ادلب شہر میں موجود شدت پسندوں کو وہاں سے نکالنے کے لیے مزید اقدامات کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی نے روس کے ساتھ گذشتہ برس ادلب سے شدت پسندوں کو نکال باہر کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔

ادھر روسی صدر ولادی میر پوتین آئندہ ہفتے ترکی اور روس کے صدور سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ یہ ملاقات روس کے جنوبی شہر سوچی میں‌ متوقع ہے۔ اس میں شام کا معاملہ سر فہرست ہوگا۔

ترکی کے ایک سینیر عسکری وفد نے ماسکو میں روسی فوجی حکام کے ساتھ ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں شام کے شمال مغربی علاقے ادلب کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ امکان ہے کہ ترکی اور روس مل کر ادلب میں 'النصرہ فرنٹ' کے خلاف آپریشن شروع کریں گے۔

ماسکو انقرہ کے ساتھ مل کر ادلب میں وسیع فوجی آپریشن کی تیاری کر رہا ہے۔ دونوں ملک ادلب میں فوجی کارروائی کی تفصیلات اور اس کے تکنیکی پر غور کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں