عدن: بچے سے جنسی زیادتی کے بعد قتل کے مجرموں کے سر قلم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے عبوری دارالحکومت عدن میں ایک 12 سالہ بچے کو جنسی درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد اسے جان سے مار ڈالنے کے جرم میں ملوث دو مجرموں کے سر قلم کر دیئے گئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 12 سالہ محمد سعد احمد مسعود البارودی کو دو وحشی صفت درندوں نے جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد اسے قتل کر دیا تھا۔ یہ کیس 'البساتین بچہ' کے نام سے میڈیا میں مشہور ہوا اور اس میں ملوث دونوں مجرموں کو پکڑ لیا گیا تھا۔

یمن کی عدالت نے ملزمان کے خلاف جاری مقدمہ کے دوران تمام ثبوت اور شواہد کی روشنی میں اُنہیں عبرت ناک سزائے موت دینے کا حکم دیا تھا۔ کل جُمعرات کو ان کے سر قلم کر دیئے گئے جبکہ ان کی سہولت کار ایک خاتون کو بچے کی رضاعت کا عرصہ مکمل کرنے کے بعد سزائے موت دی جائے گی۔

دونوں مجرموں‌ کو دارس سعد ڈاریکٹوریٹ میں النصر کلب کے گروائونڈ میں گولیاں مار کر کیفر کردار تک پہنچایا دیا گیا۔ سزا پانے والے مجرموں کی شناخت وضاح رفعتعی محمد اور محمد خالد محمد صالح کے ناموں سے کی گئی ہے۔ مجرموں کو مجمع عام میں سزائے موت دی گئی۔ اس موقع پر سول سوسائٹی کی تنظیموں اور انسانی حقوق کے نمائندوں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔

خیال رہے کہ بچے کے قتل کا یہ واقعہ گذشتہ برس 23 جنوری کو پیش آیا تھا۔ ملزمان کو دی گئی سزا پر عمل درآمد کے لیے صدر مملکت سے سفارش کی گئی تھی۔ صدر کے حکم پر ان کی سزا پر عمل درآمد کر دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں