.

عدن: بچے سے جنسی زیادتی کے بعد قتل کے مجرموں کے سر قلم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے عبوری دارالحکومت عدن میں ایک 12 سالہ بچے کو جنسی درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد اسے جان سے مار ڈالنے کے جرم میں ملوث دو مجرموں کے سر قلم کر دیئے گئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 12 سالہ محمد سعد احمد مسعود البارودی کو دو وحشی صفت درندوں نے جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد اسے قتل کر دیا تھا۔ یہ کیس 'البساتین بچہ' کے نام سے میڈیا میں مشہور ہوا اور اس میں ملوث دونوں مجرموں کو پکڑ لیا گیا تھا۔

یمن کی عدالت نے ملزمان کے خلاف جاری مقدمہ کے دوران تمام ثبوت اور شواہد کی روشنی میں اُنہیں عبرت ناک سزائے موت دینے کا حکم دیا تھا۔ کل جُمعرات کو ان کے سر قلم کر دیئے گئے جبکہ ان کی سہولت کار ایک خاتون کو بچے کی رضاعت کا عرصہ مکمل کرنے کے بعد سزائے موت دی جائے گی۔

دونوں مجرموں‌ کو دارس سعد ڈاریکٹوریٹ میں النصر کلب کے گروائونڈ میں گولیاں مار کر کیفر کردار تک پہنچایا دیا گیا۔ سزا پانے والے مجرموں کی شناخت وضاح رفعتعی محمد اور محمد خالد محمد صالح کے ناموں سے کی گئی ہے۔ مجرموں کو مجمع عام میں سزائے موت دی گئی۔ اس موقع پر سول سوسائٹی کی تنظیموں اور انسانی حقوق کے نمائندوں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔

خیال رہے کہ بچے کے قتل کا یہ واقعہ گذشتہ برس 23 جنوری کو پیش آیا تھا۔ ملزمان کو دی گئی سزا پر عمل درآمد کے لیے صدر مملکت سے سفارش کی گئی تھی۔ صدر کے حکم پر ان کی سزا پر عمل درآمد کر دیا گیا۔