.

پیرس دھماکوں کی ناکام سازش میں ملوث ایرانی سفارت کار کے بارے میں نئی معلومات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی ممالک کے سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے عہدے داران نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے ایرانی سفارت کار اسد اللہ اسدی کی تحریری گفتگو دیکھی ہے۔ اسدی پر دیگر ایرانیوں کے ساتھ مل کر گزشتہ برس جون میں پیرس میں ایرانی اپوزیشن کی کانفرنس کو دھماکے سے اڑانے کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔

برطانوی اخبار "دی انڈیپینڈنٹ" نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک مغربی اعلی عہدے دار کے حوالے سے بتایا کہ اسدی نہ صرف مذکورہ کانفرنس میں دھماکے کی کوشش سے متعلق سازش میں ملوث رہا بلکہ اس نے ایران میں دیگر عہدے داران کے ساتھ رابطہ کاری بھی انجام دی۔

ذریعے نے بتایا کہ اسدی اور ایران میں اس کے ساتھیوں کے درمیان رابطے ایس ایم ایس یا چیٹنگ کے ذریعے ہوتے تھے جن کو یورپی انٹیلی جنس اداروں نے اکٹھا کیا۔

اخبار کے مطابق مغربی عہدے دار نے ان شواہد کے بارے میں حساس معلومات کا انکشاف کیا جو اسدی کے ایرانی حکمراں نظام کے ساتھ رابطوں کو ثابت کرتے ہیں۔

یورپ اور ایران کے درمیان اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ نہیں کہ تہران اپنے مخالفین کے خلاف بدستور ہلاکتوں اور دھماکوں کی کارروائیوں میں مصروف ہے بلکہ اس خلیج کے اسباب میں ایران کا متنازع میزائل پروگرام اور دیگر معاملات بھی شامل ہیں۔

یورپی یونین کی جانب سے ایرانی انٹیلی جنس کی وزارت کے داخلہ امور کے علاوہ ایرانی انٹیلی جنس کے نائب وزیر سعید ہاشمی اور اسد اللہ اسدی پر پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔

اس وقت اسدی کے خلاف بیلجیم میں عدالتی کارروائی جاری ہے۔ وہ گزشتہ جولائی میں جرمنی کی جانب سے حوالے کیے جانے کے بعد سے بیلجیم میں ہی زیر حراست ہے۔ اسدی پر الزام ہے کہ اس نے ناکام حملے کی منصوبہ بندی پر عمل درامد کرنے والے دو افراد کو بم فراہم کیا تھا۔ یہ دونوں ایرانی باشندے ہیں جن کے پاس بیلجیم کی شہریت ہے۔ ان کے نام امير سعدونی (33 سال) اور نسیمہ نومنی (33 سال) ہے۔ دونوں مرد اور عورت نے اعتراف کر لیا کہ اسدی نے حملے کے مقرردہ دن سے ایک روز پہلے لیگزمبرگ میں بم ان کے حوالے کیا تھا۔

بیلجیم کے شمالی شہر Antwerp کی عدالت نے گزشتہ ہفتے اپنے ایک فیصلے میں اسدی کی حراست کی مدت میں توسیع کر دی۔

مغربی عہدے دار کے مطابق قرائن اس بات کی مضبوط دلیل پیش کرتے ہیں کہ اسدی پیرس میں دھماکے کی ناکام سازش میں ملوث ہے۔ البتہ اس بات کی تصدیق نہیں کی جا سکتی کہ آیا ایرانی حکومت کے اعلی عہدے داران بھی اس سازش سے آگاہ تھے۔

جرمنی میں ایران کے سابق سفیر علی ماجدی نے گزشتہ ماہ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو میں کہا تھا کہ اسدی کے خلاف یورپ کے شواہد ناقابل تردید ہیں جن کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکتی۔

اسی طرح یورپی سکیورٹی اداروں نے گزشتہ برس اکتوبر میں ڈنمارک میں ایک اور حملے کو ناکام بنا دیا تھا۔ اس سازش میں دارالحکومت کوپن ہیگن میں دو اہوازی کارکنان کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

ادھر ہالینڈ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں حالیہ برسوں میں ہالینڈ کے دو ایرانی نژاد شہریوں کی ہلاکتوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔ ان افراد میں ایک اہوازی رہ نما احمد مولی ہے جب کہ دوسرا محمد رضا صمدی ہے جو اپوزیشن کی تنظیم مجاہدین خلق کا مقرب ہے۔