.

مراکشی وزیر خارجہ نے سعودی عرب اور یو اے ای سے سفیر واپس بلانے کی تردید کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مراکش کے وزیر خارجہ ناصر بوریطہ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے اپنے سفیروں کو واپس بلانے سے متعلق میڈیا رپورٹس کی تردید کردی ہے اور کہا ہے کہ ’’اس حوالے سے خبر بالکل من گھڑت ، غلط اور بے بنیاد ہے،یہ کسی سرکاری عہدہ دار نے جاری نہیں کی تھی‘‘۔

انھوں نے ہفتے کے روز روسی خبررساں ایجنسی سپوتنک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ مراکش کی سفارت کاری کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ اپنے چینلوں کے ذریعے اپنے موقف کا اظہار کرتا ہے ، امریکا کی کسی خبررساں ایجنسی کے ذریعے نہیں ‘‘۔انھوں نے کہا’’ اس طرح کے فیصلوں کے اعلان کے لیے رباط کے اپنے چینلز موجود ہیں‘‘۔

وہ ان میڈیا رپورٹس کے بارے میں گفتگو کررہے تھے جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ مراکش نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا ہے۔
میڈیا میں مراکش اور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات کے حوالے سے حال ہی میں بعض رپورٹس کی تشہیر کی گئی ہیں۔

امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس( اے) نے مراکشی حکام کے حوالے سے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ رباط نے یمن میں عرب اتحاد کے ساتھ مل کر فوجی کارروائیوں میں حصہ لینے کا سلسلہ موقوف کردیا ہے اور سعودی عرب میں متعیّن اپنے سفیر کو بھی واپس طلب کر لیا ہے۔

مراکو ورلڈ نیوز کے مطابق الریاض سے مراکشی سفیر مصطفیٰ المنصوری کو دونوں مملکتوں کے درمیان سفارتی تعلقات پر مشاورت کے لیے طلب کیا گیا ہے۔یہ اقدام العربیہ نیوز چینل پر متنازعہ مغربی صحرا کے حوالے سے ایک مخالفانہ دستاویزی رپورٹ نشر ہونے کے بعد کیا گیا ہے اور اسی معاملے پر مراکشی حکام مشاورت کریں گے۔اے پی نے بھی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مراکشی سفیر کو اس ڈاکومنٹری کے نشر ہونے کے بعد واپس بلایا گیا ہے۔

دریں اثناء مراکشی حکومت کے قریب تر ایک خبری ذریعے ہیس پریس نے جمعہ کو یہ اطلاع دی تھی کہ ’’مراکشی وزارت خارجہ نے جان بوجھ کر سعودی عرب کے خلاف رباط کے مؤقف کی وضاحت کے لیے ایک غیر ملکی میڈیا ایجنسی کا انتخاب کیا تھا اور اس کے بعد سفیر کو ہدایت کی کہ وہ پریس کے لیے ایک بیان جاری کردیں‘‘۔

مراکش کے بعض دوسرے خبری ذرائع نے بھی مراکش اور سعودی عرب کے درمیان ’’ بڑھتی ہوئی کشیدگی‘‘ کی اطلاع دی ہے۔مراکو ورلڈ نیوز کا کہنا تھا کہ 13 جون 2018 کو فٹ بال کے عالمی کپ کی 2026ء میں میزبانی کے نتائج کے اعلان سے قبل بھی سعودی عرب نے امریکا کی قیادت میں شمالی امریکا کے حق میں فعال انداز میں مہم چلائی تھی۔

اس عالمی کپ کی میزبانی کے لیے امریکا ، میکسیکو اور کینیڈا کا فیصلہ کن 134 ووٹوں سے انتخاب کیا گیا تھا جبکہ مراکش کے حق میں صرف 65 ووٹ پڑے تھے۔اس سے یہ واضح ہے کہ اگر تمام عرب ممالک بھی مراکش کی حمایت کرتے تو پھر بھی وہ عالمی کپ کی میزبانی کے حصول میں کامیاب نہیں ہوسکتا تھا۔

سعودی عرب کے علاوہ متحدہ عرب امارات ، اردن ، لبنان ، بحرین ، عراق اور کویت نے بھی مراکش کے حق میں ووٹ نہیں دیا تھا۔اس رائے شماری کے 24 گھنٹے کے بعد ہی مراکش کے شاہ محمد ششم پنجم نے قطر کا اپنے ملک کی حمایت کرنے پر شکریہ ادا کیا تھا ۔ اس کے چند ہفتے کے بعد ہی اپنے پہلےسرکاری ردعمل میں مراکش نے یمن میں قانونی حکومت کے حامی عرب اتحاد میں شامل ممالک کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کردیا تھا ۔