.

شام : امریکا کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز اور داعش میں شدید جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے مشرقی صوبے دیر الزور میں امریکا کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف ) اور داعش کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں ۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ ایس ڈی ایف نے ایک ہفتے کے وقفے کے بعد ہفتے کی شب عراق کی سرحد کے نزدیک داعش کے زیر قبضے چند ایک بستیوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی شروع کی تھی۔ایس ڈی ایف نے لوگوں کو علاقے سے نکلنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا تھا اور اس دوران میں جنگی کارروائیاں روک دی تھیں۔

رصدگاہ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ داعش اور ایس ڈی ایف کے جنگجوؤں کے درمیان اتوار کی صبح سے شدید لڑائی جاری ہے اور امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔اس دوران میں بارودی سرنگوں کے دھماکے بھی ہوئے ہیں۔

ایس ڈی ایف نے دیر الزور میں ستمبر میں داعش کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔اس کے بعد سے انھوں نے اس سخت گیر جنگجو گروپ کے زیر قبضہ بیشتر علاقے واگزار کرالیے ہیں اور اس کو دریائے فرات کے مشرقی کنارے میں صرف چار مربع کلومیٹر علاقے تک محدود کردیا ہے۔

ایس ڈی ایف کے ترجمان مصطفیٰ بالی کے مطابق اس علاقے میں داعش کے قریباً چھے سو جنگجو موجود ہیں ۔ ان میں زیادہ تر غیر ملکی ہیں۔

دسمبر میں لڑائی میں شدت کے بعد سے علاقے سے 37 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوچکے ہیں، ان میں انتہا پسند جنگجوؤں کے بیوی بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ انھیں ایس ڈی ایف کے زیر قبضہ صحرائی علاقے میں منتقل کیا گیا ہے۔رصدگاہ کے مطابق ان میں قریباً 3200 مشتبہ انتہا پسند بھی شامل ہیں۔ انھیں ایس ڈی ایف نے گذشتہ مہینوں کے دوران میں دیرالزور میں گرفتار کیا تھا۔