ایران کی طرف سے فوجی معاونت کی پیشکش پرلبنان کی عدم دلچسپی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے گذشتہ روز اپنے دورہ لبنان کے دوران لبنانی حکومت کو فوجی شعبے میں‌تعاون کی پیش کش کی مگر بیروت نے تہران کی پیش کش پر عدم دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

بیروت میں ایرانی وزیرخارجہ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ان کا ملک لبنانی فوج کی معاونت کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ہمیشہ لبنانی فوج کو مستحکم کرنے کے لیے معاونت فراہم کرنے کو تیار رہے ہیں۔ مختلف مواقع پرہم نے بیروت کی سیاسی اور عسکری قیادت کو اپنی معاونت کا یقین دلایا مگر فی الحال ہمیں لبنان کی طرف سے اس پیشکش کا جواب نہیں دیا گیا۔

ایرانی وزیرخارجہ نے ان خیالات کا اظہار بیروت ہوائی اڈے پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ وہ لبنان کے دو روزہ سرکاری دورے پر گذشتہ روز بیروت پہنچے تھے۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف ایک ایسے وقت میں بیروت پہنچے ہیں جب کئی ماہ کی کوششوں‌ کے بعد لبنان میں قومی حکومت تشکیل دی گئی ہے۔ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے کہا تھا کہ اسرائیل کے خلاف لڑنے کے لیے وہ ایران سے طیارہ شکن اسلحہ اور میزائل حاصل کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران لبنان کو بجلی اور ادویات کے شعبے میں بھی معاونت کرے گا۔

امریکا نے حزب اللہ کو مسلح دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ امریکا نے حزب اللہ کو کم زور کرنے کے لیے لبنانی فوج کی معاونت شروع کی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ اپنے دورہ لبنان کے دوران لبنانی وزیراعظم سعد حریری اور صدر میشل عون سمیت دیگر رہ نمائوں سے بھی ملاقات کریں گے۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں