تبادلے کی ابتدائی فہرست میں 2200 قیدی شامل ہیں: یمنی عہدے دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

یمن میں انسانی حقوق کی وزارت کے سکریٹری ماجد فضایل کا کہنا ہے کہ قیدیوں اور گرفتار شدگان کے حوالے سے اردن میں جاری یمنی مشاورت میں تبادلے کے لیے ابتدائی فہرست پر اتفاق رائے ہو گیا ہے جس میں 2200 اسیروں کے نام ہیں۔ انہوں نے کہا اس تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

عربی اخبار "الشرق الاوسط" نے ماجد فضایل کے حوالے سے بتایا کہ مشاورت کا سلسلہ جاری ہے اور مختصر عرصے کے لیے وقفے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فریقین اپنی قیادت کے ساتھ بعض فیصلہ طلب امور کو زیر بحث لائیں گے۔ ان میں حوثی ملیشیا کی جانب سے سلامتی کونسل کی قرار داد 2216 میں شامل چار شخصیات کی رہائی کو مسترد کیا جانا شامل ہے۔

فضایل نے زور دیا کہ قیدیوں کے تبادلے کے عمل سے عدالتی دعوؤں کے دائر کرنے کا حق ختم نہیں ہو گا۔

ادھر اقوام متحدہ کے ذرائع نے غالب گمان ظاہر کیا ہے کہ یمن کے لیے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس آج صنعاء کا دورہ کریں گے۔ وہ حوثی ملیشیا کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے جن میں ممکنہ طور پر الحدیدہ میں نئی صف بندی کی نگراں کمیٹی کے سربراہ جنرل لولزگارڈ بھی شریک ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں