.

اقوام متحدہ 12 ملین یمنی باشندوں کو خوراک کی فراہمی کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے خبردارکیا ہے کہ مغربی ساحلی شہر الحدیدہ میں مِلوں اورعالمی ادارہ خوراک کے گوداموں میں رکھا اناج کے خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفیتھس اور ہنگامی امدادی امور کے رابطہ کارمارک لوکوک نے یمن کی صورت حال کے حوالے سے ایک مشترکہ انتباہی بیان جاری کیا ہے۔

'یو این' عہدیداروں نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ الحدیدہ میں آٹے کی ملوں سے آٹے کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جب کہ شہریوں کوان ملوں تک رسائی میں پانچ ماہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ یمن میں ایک کروڑ 20 لاکھ شہریوں کو خوراک کی فراہمی کے پروگرام پرعمل پیرا ہے۔

ادھر اقوام متحدہ نے حوثی ملیشیا پرالزام عاید کیا ہے کہ اس نے گذشتہ برس ستمبر سے اب تک بحر الاحمر کی ملوں تک رسائی پرپابندی عاید کررکھی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک کے عہدیدار مارک لوکوک کا کہنا ہے کہ بحر الاحمر کی ملوں میں 37 لاکھ افراد کے لیے ایک ماہ کا غلہ موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بحر الاحمر میں‌ موجود ملوں کے گوداموں میں چار ماہ سے پڑا اناج خراب ہونے کا اندیشہ ہے جب کہ دوسری طرف پورے یمن میں ایک کروڑ افراد خوراک کی قلت کا شکار ہیں۔