.

ترکی: اپوزیشن کے 1 ہزار سے زیادہ افراد کی گرفتاری کے لیے سب سے بڑا آپریشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں منگل کے روز حکومت کی جانب سے اپوزیشن کے خلاف ایک بہت بڑی کارروائی کی جا رہی ہے۔ یہ کارروائی اُن افراد کے خلاف کی جا رہی ہے جن کے بارے میں شبہہ ہے کہ وہ امریکا میں مقیم ترک مبلغ فتح اللہ گولن سے تعلق رکھتے ہیں۔ ترکی کی حکومت گولن پر 2016 میں انقلاب کی کوشش کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کرتی ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق انقرہ حکومت نے نئی مہم میں 1112 افراد کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔

انقلاب کی ناکام کوشش کے تقریبا ڈھائی سال بعد گرفتاریوں کی یہ کارروائی ظاہر کرتی ہے کہ ترک حکام نے مصمم ارادہ کر رکھا ہے کہ وہ گولن کے ان حامیوں کے ساتھ ہر گز غفلت نہیں برتیں گے جو ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی مخالفت کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ ایردوآن کے سابق حلیف فتح اللہ گولن انقلاب کی کوشش میں ملوث ہونے کی تردید کر چکے ہیں۔

گولن 1999 سے پینسلوینیا میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

ترکی کے وزیر داخلہ سلیمان صویلو نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ ملک میں جلد ہی گولن کے حامیوں کے خلاف ایک "بڑا آپریشن" کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ انقلاب کی کوشش کے بعد سے تقریبا 77 ہزار افراد کو جیل بھیجا گیا جو عدالتی کارروائی کے منتظر ہیں۔ معمول کی بنیاد پر گرفتاریوں کا وسیع سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

ترک حکام نے انقلاب کی کوشش کے بعد 1.5 لاکھ ملازمین اور عسکری اہل کاروں کی معطلی یا برطرفی کے فیصلے کیے۔

ایردوآن کو اپنے ناقدین کی جانب سے اس الزام کا سامنا ہے کہ وہ ناکام انقلاب کو بنیاد بنا کر اپوزیشن کو پیس ڈالنے کے درپے ہیں۔ دوسری جانب ترکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قومی سلامتی کو درپیش خطرات کو روکنے کے واسطے ناگزیر ہیں۔