.

سعودی شہری نے 102 سال کی عمر میں کس خواہش کا اظہار کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ایک مقامی شہری مہدی عبار نے اپنے عمر رسیدہ والد کے ساتھ گفتگو کا وڈیو کلپ ریکارڈ کر کے اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا ہے۔ شاعر اور میڈیا پرسن مہدی عبار کی اپنے 102 سال سے زیادہ عمر کے والد کے ساتھ بات چیت کو سوشل میڈیا کے حلقوں میں لاکھوں افراد نے پسند کیا ہے۔

مہدی نے اپنے فالوورز سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کے والد کی عمر میں برکت اور صحت کے لیے دعا کریں۔

مذکورہ وڈیو کلپ میں مہدی نے نئے سال کی آمد پر اپنے والد کی دلی آرزو کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ "میں صحت، عافیت اور پردہ داری کا متمنی ہوں اور اس بات کا آرزو مند ہوں کہ مملکت کو عزت و توقیر حاصل ہو اور میں اللہ تعالی کا اور اس کے بعد فرماں روا کا فرماں بردار رہوں"۔

مہدی کے والد نے کہا کہ آج کے دور میں جو ترقی اور ٹیکنالوجی ہے وہ بھلائی کی صورت ہے کیوں کہ ماضی میں لوگ پیدل ایک جگہ سے دوسری جگہ آتے جاتے تھے اور انہیں گاڑیوں کی سہولت میسر نہیں تھی۔

مہدی کے والد نے انکشاف کیا کہ جب مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود نے حکمرانی سنبھالی تو ان کی عمر 11 برس سے زیادہ نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اُس دور کے لوگ بھوک اور پیاس برداشت کرنے پر قادر ہوتے تھے۔

بات چیت کے دوران مہدی کے والد نے کہا کہ پرانے دور کے پڑوسیوں میں اعلی اقدار پائی جاتی تھیں۔ ہر طرف احترام کا دور دورہ تھا اور ان کوئی شخص سفر پر چلا جاتا تو اس کا پڑوسی جانے والے شخص کے گھر کا اس طرح خیال رکھتا تھا جیسے وہ ان کا باپ یا بڑا بھائی ہو۔