.

سعودی عرب : قدرت کے ہاتھوں تراشے گئے شرعان کے خوب صورت پہاڑ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شہر العلا سے 50 کلو میٹر شمال مشرق میں واقع علاقہ شرعان ،،، العلا کے خوب صورت ترین صحرائی علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں پر واقع پہاڑ، سنہری ریت اور جا بجا پھیلے آکاسیا کے درخت قدرت کے جمال اور صحرائی سفر کے دل دادہ افراد کے لیے کشش کا مرکز ہیں۔

بارشوں کے سیزن میں شرعان میں موسمی پودے اُگ آتے ہیں جو اس علاقے کے بنیادی اجزا یعنی پہاڑ اور ریت میں ایک اضافہ ہوتے ہیں۔

شرعان کے پہاڑ چٹانوں کی انتہائی خوب صورت تصویر پیش کرتے ہیں۔ ان بلند پہاڑوں کے سبب شرعان کی اراضی کو قدرتی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔

شرعان کے پہاڑوں کا نام پرانے دور سے معروف ہے جس کا ذکر عرب شاعروں کے کلام میں بھی آیا ہے۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے شرعان کی سرزمین پر ایک بار پھر فطری زندگی کو واپس لانے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلے میں شرعان کے پہاڑوں میں کئی جانوروں کو چھوڑا گیا ہے۔ ان میں نیوبی بکرا شامل ہے جو شکاریوں کا نشانہ بننے کے سبب معدوم ہونے سے قبل ان پہاڑوں میں رہنے والا مشہور جانور تھا۔ علاوہ ازیں شرعان کے میدانوں میں ہرنوں اور سرخ گردن والے شتر مرغ بھی چھوڑے گئے ہیں۔

العلا روئل کمیشن یہاں ایک عالمی تفریح گاہ کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے شرعان کے دورے میں اس حوالے سے آگاہی حاصل کی۔ اس سلسلے میں شرعان کی چٹانوں کے بیچ سیاحتی مقام بنایا جائے گا جہاں قیام کے لیے ہوٹلز اور صحت بخش تفریح گاہ ہو گی۔ علاوہ ازیں یہاں اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی اجلاسوں اور ملاقاتوں کا انعقاد بھی عمل میں آئے گا۔

یہ اپنی نوعیت کی منفرد تفریح گاہ ہو گی۔

شہزادہ محمد بن سلمان میڈیا سے بات چیت میں یہ بتا چکے ہیں کہ اس وقت آغاز ہے اور پہلا مرحلہ 2023 میں مکمل ہو جائے گا۔ سال 2018 کے اوائل میں سعودی ولی عہد نے شرعان کا دورہ کیا تھا اور یہاں گھومتے پھرتے انہوں نے سیاحوں کے ایک گروپ سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع کی تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئیں تھیں۔

سعودی شہری اور فوٹوگرافر محمد العتیق کا تعلق العلا شہر سے ہے۔ انہوں نے شرعان کا دورہ کرتے ہوئے یہاں کے خوب صورت اور دل موہ لینے والے پہاڑوں اور سنہری ریت کے مناظر کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا اور پھر اسے سوشل میڈیا کی زینت بنا دیا۔

محمد العتیق کے علاوہ فوٹوگرافر بندر العنزی نے بھی اپنے سابقہ اسفار میں شرعان کے پہاڑوں کی تصاویر کا مجموعہ تیار کیا۔ العنزی نے پہلی مرتبہ تین برس قبل اس علاقے کا دورہ کیا تھا۔