.

شام میں عالمی اتحادی فوج کی بمباری،7 بچوں سمیت 16 شہری جاں‌بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں الباغوز کےمقام پرشدت پسند گروپ 'داعش' کے خلاف جاری آپریشن کے دوران عالمی اتحادی فوج کی بمباری میں سات بچوں سمیت 16 عام شہری مارے گئے ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کے آبزرور رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ پیر کے روز عالمی اتحادی فوج کی طرف سے الباغوز میں داعش کے خلاف فیصلہ کن آپریشن کےدوران متعدد تنصیبات پر فضائی حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتوں کے واقعات پیش آئے ہیں۔

رامی عبدالرحمان نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ عالمی اتحادی فوج کی بمباری کے نتیجے میں الباغوز میں ساتھ بچے، ایک عمر رسیدہ شخص اور 8 خواتین ماری گئی ہیں۔ یہ تمام افراد جنگجووں کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو عراق کی سرحد کی طرف فرار ہونے کی کوشش کے دوران بمباری کا نشانہ بن گئے۔

خبر رساں ادارے'رائیٹرز' نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ جنگی طیارے الباغوز کی فضاء میں دیکھے گئے۔ اسی دوران دھوئیں کے سفید بادل بلند ہوئے۔ امدادی کارکنوں نے وہاں پہنچنے کی کوشش کی تاہم مسلسل بمباری کی وجہ سے متاثرین تک رسائی حاصل نہیں ہوسکی۔

خیال رہے کہ شام میں سیرین ڈیموکریٹک فورس یعنی 'ایس ڈی ایف' نے دیر الزور گورنری میں 'داعش' کے خلاف ہفتے کے روز سے فیصلہ کن آپریشن شروع کیا ہے۔ ایس ڈی ایف کو عالمی اتحادی فوج کی معاونت بھی حاصل ہے۔

ایس ڈی ایف کے ترجمان مصطفیٰ بالی نے بتایا کہ انتہا پسند سخت مزاحمت کررہے ہیں۔ سوموار کے روز داعشی جنگجووں کی طرف سے ایک بڑا حملہ کیا گیا جسے پسپا کردیا گیا۔ گذشتہ روز بمباری کے دوران ہی 1500 افراد نے وہاں سے نقل مکانی بھی کی ہے۔

سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے اپنی سیکیورٹی میں 17 ٹرکوں پر خواتین اور بچوں‌کو سوار کرنے کے بعد اپنے زیرکنٹرول علاقے میں پہنچایا۔