.

یو این ایلچی برائے یمن حوثیوں کے ہاتھوں ’بلیک میل‘ ہو رہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب برائے یمن مارٹن گریفتھس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی ادارے میں انسانی حقوق انجمن کے سیکرٹری اور یمن کے لئے خصوصی ایلچی کا ملکی صورت حال سے متعلق خصوصی بیان واضح جانبداری کا مظہر ہے، جس پر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔

انھوں نے کہا دونوں رہنماوں کے مشترکہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’’یو این ایلچی وہاں سرگرم حوثی ملیشیا کے دباو میں آ کر بلیک میل ہو رہے ہیں۔‘‘

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے سلسلہ وار پیغامات میں الاریانی نے کہا ’’مشترکہ بیان مسٹر مارک لوکک کے ماضی میں جاری کردہ بیانات سے میل نہیں کھاتا جس میں انھوں نے بحیرہ احمر کے کنارے واقع فلور ملز تک اتاری گندم پہچانے اور غذائی امداد کی ترسیل کے چینل بند کرنے کا ذمہ دار حوثیوں کو ٹھرایا تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’مشترکہ بیان میں واضح طور پر جھکاو دکھائی دیتا ہے، جس سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بیان زمینی حقائق کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔ حوثی ملیشیا الحدیدہ سے متعلق سویڈن معاہدے پر گذشتہ دو مہینوں سے عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ وہ یمنی حکومت اور عرب اتحاد کی جانب سے کی جانے والی تمام کوششوں اور ان رعایتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے فوج کی از سر نو تعیناتی کو بھی ناکام بنا رہے ہیں۔

معمر الایارنی کا مزید کہنا تھا کہ ’’بیان سے لگتا ہے کہ یو این ایلچی برائے یمن حوثی ملیشیا کے دباو میں آ کر بلیک میلنگ کا شکار ہو گئے ہیں حالانکہ موخر الذکر یمنی عوام تک امداد فراہمی کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں اور بندرگاہوں کو دھماکے سے اڑانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ نیز انہیں اس امر کا کوئی پاس نہیں کہ یمنی حکومت سویڈن معاہدے کے تحت عوام تک امداد پہنچانے کی کوششوں کر رہی ہیں اور وہ اس کی راہ میں مسلسل رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یو این بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حوثی ملیشیا کے خلاف فیصلہ کن اقدام میں سنجیدہ نہیں۔ ایسے میں، یمنی وزیر کے بقول، حکومت زیادہ دیر صبر کا دامن نہیں تھام سکتی۔

یو این ایلچی برائے یمن نے اپنے بیان میں حوثیوں کی جانب سے سویڈن معاہدے پر عمل درآمد اور تعاون کا ذکر کرتے ہوئے اس امر کی جانب اشارہ کیا تھا کہ باغی اتاری گئی گندم کو فلور ملز تک بحفاظت پہنچا رہے ہیں جبکہ انسانی حقوق کے عالمی ادارے کے سربراہ کے سیکرٹری مارک لوکک نے اس سے قبل بتایا تھا کہ باغی ملیشیا نے گندم لے جانے والے ٹرکوں کو یمنی حکومت کے زیر نگین بحیرہ احمر کی فلور ملوں تک پہنچانے کے لئے اپنے زیر کنڑول فرنٹ لائز عبور کرنے سے روک دیا تھا۔ حوثیوں نے اپنے اس اقدام کو سیکیورٹی خدشات کی بنا جائز قرار دیا تھا۔