.

امریکا کے منصوبے میں 1967ء کی سرحدوں پر مبنی فلسطینی ریاست شامل ہونی چاہیے: لاروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ ’’ امریکا کی مشرقِ اوسط میں امن عمل کی بحالی کے لیے مجوزہ صدی کی ڈیل 1967ء کی سرحدوں پر مشتمل ایک فلسطینی ریاست کی ضمانت دینے کے لیے کافی نہیں ہے‘‘۔

وہ منگل کے روز دارالحکومت ماسکو میں مختلف فلسطینی گروپوں کے درمیان مکالمے کے موقع پر گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا:’’امریکا اس مسئلے کے حل کے لیے جان بوجھ کرنئے نئے حل تجویز کررہا ہے، حکمت عملیاں پیش کررہا ہے۔وہ دوسال سے صدی کی ڈیل پیش کرنے کا وعدہ کرتا چلا آرہا ہے‘‘۔

ماسکو میں بارہ فلسطینی گروپوں اور تنظیموں کے درمیان سوموار سے تین روزہ بات چیت جاری ہے۔روس کے زیر اہتمام اس مکالمے میں فلسطینی گروپوں کے درمیان اختلافات کے خاتمے او ر انھیں متحد کرنے کے لیے تجاویز پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔

لاروف کے مطابق روس کے نزدیک اسرائیلی، فلسطینی امن بات چیت میں فلسطینیوں کے درمیان اتحاد کو اولین ترجیح حاصل ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکا کی تجویز میں مشرقی القدس دارالحکومت کے ساتھ فلسطینی ریاست کا قیام شامل نہیں ہے۔

انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’ ہم دنیا کے بیشتر ممالک کی طرح فلسطینی تنازع کے حل کے لیے پختہ عزم رکھتے ہیں۔یہ حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں ، جنرل اسمبلی اور عرب امن اقدام سے ہوکر برآمد ہوگا‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ’’ ہمیں اب تک جو معلومات فراہم ہوئی ہیں،ان کے مطابق اس صدی کی مجوزہ ڈیل سے تنازع کے حل کےلیے جو کچھ اب تک حاصل ہوا ہے، وہ سب لاحاصل ہوجائے گا‘‘۔

امریکی صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کوشنر اور مشرقِ اوسط کے لیے امریکی ایلچی جیسن گرین بلاٹ ’’صدی کی اس مجوزہ ڈیل‘‘ کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تعطل کا شکار امن مذاکرات کی بحالی ہے۔تاہم اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کسی امن معاہدے کی راہ میں مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت اور مغربی کنارے کے علاقے میں یہودی آباد کاروں کی غیر قانونی بستیاں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اگر مشرقی القدس پر ان کے مطالبات کو مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا جاتا تو پھر کوئی بھی ڈیل نہیں ہوگی۔ جیرڈ کوشنر فروری کے آخر میں پانچ عرب ممالک کا دورہ کرنے والے ہیں۔ وہ اس مجوزہ ڈیل کے اقتصادی حصے کے بارے میں سفارت کاروں کو بریف کریں گے لیکن سیاسی حصے کے بارے میں وہ اس موقع پر کوئی ’’انکشاف‘‘ نہیں کریں گے۔