.

سعودی عرب کا اپنے شہریوں پر عاید لبنان کے لیے سفری انتباہ جلد ختم کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اپنے شہریوں کے لبنان کے سفر پر جانے پر عاید سفری انتباہ کو جلد ختم کردے گا ۔

لبنان کے ٹیلی ویژن چینل الجدید نے بدھ کو یہ اطلاع بیروت میں متعیّن سعودی سفیر ولید بخاری کے حوالے سے دی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ ماضی میں اس فیصلے کا جواز سکیورٹی وجوہ کا اب خاتمہ ہوچکا ہے اور لبنانی حکومت کی جانب سے (امن وتحفظ کی) یقین دہانی کے بعد سے اب سعودی مملکت اپنے شہریوں پر سے سفری انتباہ کی قدغن ختم کررہی ہے‘‘۔

انھوں نے یہ بیان بدھ کو سعودی عرب کے شاہی دیوان کے ایلچی نزار الاولیٰ اور لبنانی وزیر اعظم سعد الحریری کے درمیان ملاقات کے بعد جاری کیا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے نومبر 2017ء میں اپنے شہریوں کو لبنان کے سفر پر نہ جانے کی ہدایت کی تھی اور ا س وقت اس ملک میں موجود اپنے شہریوں سے کہا تھا کہ وہ جلد سے جلد وہاں سے لوٹ جائیں ۔ یہ انتباہ تب لبنانی وزیراعظم سعد الحریری کے سعودی عرب سے استعفے کے اعلان کے بعد جاری کیا گیا تھا ۔ تاہم انھوں نے بعد میں اپنا یہ استعفا واپس لے لیا تھا۔

سعودی عرب نے سفری انتباہ ختم کرنے کا فیصلہ لبنان میں نئی حکومت کی تشکیل کے دو ہفتے کے بعد کیا ہے۔ سعودی عرب اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے درمیان گذشتہ چند برسوں سے کشیدگی چلی آرہی ہے۔ سعودی عرب نے حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔