حسن روحانی امریکا سے مذاکرات کے حامی، خامنہ ای مخالف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت امریکا کے ساتھ کسی دبائو میں آئے بغیر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب ایران کے طاقتور رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کو 'بے سود' قرار دیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'ایرنا' کے مطابق صدر حسن روحانی نے کہا کہ اگر امریکی بات چیت کرنا چاہیں تو مخصوص اور متعین موضوع پر بات چیت کی جا سکتی ہے، مگر امریکیوں کو ایران کی حرمت کا احترام کرنے کے ساتھ ایران کے قانون اور بین الاقوامی اصولوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ ہم مسلمہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق بات چیت کے لیے اب بھی تیار ہیں اور پہلے بھی بامقصد اور باہمی احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے مذاکرات سے انکار نہیں کیا۔ صدر روحانی نے کہا کہ مذاکرات کی آڑ میں ایران، امریکا کا کسی قسم کا دبائو قبول نہیں کرے گا اور نہ قومی حقوق پر کسی قسم کی سودے بازی کی جائے گی۔

صدر حسن روحانی نے کہا کہ امریکا ہمارا دشمن ہے اور اس کے سامنے ہتھیار پھینکنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر ایرانی قوم ایران کے سامنے ایک بار جھک گئی تو ایران کی شناخت ہی مٹ جائے گی۔ اس لیے ہمیں امریکا کے ساتھ استقامت کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات بے سود ہیں۔ بدھ کو اپنی آفیشل ویب سائٹ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں خامنہ ای نے کہا کہ امریکا کے ساتھ کوئی بھی مسئلہ قابل نہیں۔ امریکیوں کے ساتھ مذاکرات، گھاٹے کا سودا ہے۔

خامنہ ای نے مزید لکھا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا، امریکیوں سے مذاکرات اقتصادی اور روحانی خسارے کے سوا کچھ نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں