داعش کی خلافت میں بدعنوانی اور بے رحمانہ کارروائیاں دیکھیں : برطانوی لڑکی کی بازگشت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

داعش کی خلافت کے زیر انتظام 4 برس گزارنے والی 19 سالہ برطانوی لڑکی مایوسی کا شکار ہو چکی ہے۔ بالخصوص اپنے دونوں شیرخوار بچوں کی موت اور داعشی شوہر کو جیل ہو جانے کے بعد وہ نا امیدی سے دوچار ہے۔

بدھ کے روز برطانوی اخبار دی ٹائمز میں شائع ہونے والے انٹرویو میں مشرقی لندن سے تعلق رکھنے والی شمیمہ بیگم نے وطن واپس لوٹنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وہ اس وقت اپنے تیسرے بچے کے لیے نو ماہ کی حاملہ ہے۔

شمیمہ بیگم نے جب داعش میں شمولیت کے لیے شام کا سفر کیا تو اس کی عمر صرف 15 برس تھی۔ اس وقت وہ شام کے مشرق میں بے گھر افراد کے ایک کیمپ میں پڑی ہوئی ہے۔

شمیمہ کے پہلے دو بچے شیرخوارگی کے دوران ہی فوت ہو گئے تھے جب کہ اس کا شوہر اس وقت سیرین ڈیموکریٹک فورسز کی ایک جیل میں قید ہے۔

برطانوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے شمیمہ نے کہا کہ وہ برطانیہ لوٹنے پر ہر گز نادم نہیں ہو گی کیوں کہ اب وہ 15 برس کی لا ابالی طالبہ نہیں جو چار سال قبل بیتھنل گرین سے فرار ہو گئی تھی۔

اس نے مزید کہا کہ "خلاف ختم ہو چکی ہے جہاں بہت زیادہ کریک ڈاؤن اور بدعنوانی کا راج تھا۔ میں نہیں سمجھتی کہ یہ لوگ کامیابی کے مستحق ہیں۔ میں جانتی ہوں کہ انٹرنیٹ کے ذریعے میرے بارے میں کیا کچھ لکھا گیا مگر اب میں صرف واپس لوٹنا چاہتی ہوں تا کہ اپنے ہونے والے بچے کے ساتھ جی سکوں۔ اس واسطے میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں"۔

شمیمہ نے بتایا کہ 2015 میں شام کے شہر الرقہ پہنچنے کے صرف دس روز بعد ہی اس کی شادی ہو گئی۔ اس کا شوہر ہالینڈ سے تعلق رکھتا تھا جس نے اسلام قبول کرنے کے بعد شدت پسند تنظیم داعش میں شمولیت اختیار کر لی۔ بعد ازاں اس کے شوہر پر جاسوسی اور تشدد کرنے کے الزامات عائد کر کے گرفتار کر لیا گیا۔

شمیمہ کے مطابق وہ جنوری 2017 میں اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ کوچ کر گئی۔ اس وقت شمیمہ کی ایک پونے دو سالہ بیٹی اور ایک تین ماہ کا بیٹا تھا ، یہ دونوں کچھ ماہ بعد فوت ہوگئے۔

شمیمہ نے بتایا کہ جب اس نے زندگی میں پہلی بار ایک داعش مخالف جنگجو کا کٹا ہوا سر دیکھا تو اسے ہر گز کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔

کچھ عرصہ قبل شمیمہ داعش کے کچھ جنگجوؤں کے ساتھ فرار ہو کر باغوز کے مشرق کی جانب کوچ کر گئی جہاں وہ شہر سے تین کلومیٹر کی دوری پر ایک علاقے میں رہ گئی۔ دو ہفتے قبل شوہر کے شامی اپوزیشن کے سامنے ہتھیار ڈال دینے کے بعد وہ پناہ گزینوں کے ایک کیمپ پہنچ گئی۔

یاد رہے کہ شمیمہ ان تین طالبات میں سے ایک ہے جو فروری 2015 میں بیتھنل گرین اکیڈمی سے فرار ہوئیں۔ ان طالبات نے داعش میں شمولیت کے لیے اپنے گھروں کو چھوڑ دیا تھا۔

دیگر دو طالبات کے نام خدیجہ سلطانہ اور امیرہ عباس ہیں۔

دی ٹائمز اخبار کے مطابق بقیہ دونوں طالبات نے بھی داعشی جنگجوؤں سے شادیاں کیں۔ ان میں خدیجہ سلطانہ مئی 2016 میں ایک فضائی حملے میں ہلاک ہو گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں